پاکستان کے وفاقی لاجسٹک انفراسٹرکچر، مواصلاتی نیٹ ورکس، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تزویراتی کوریڈورز سے سفری رابطوں کو مربوط بنانے کے لیے ایک اہم، ہنگامی اور بڑا انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے این ایچ اے کو سخت مینوفیکچرڈ گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے ملتان مظفر گڑھ میانوالی شاہراہ منصوبہ کو اگلے دو ماہ کے اندر ہر صورت مکمل کرنے کا ہدف دے دیا ہے۔
9 اکتوبر 2026 کو وزارتِ مواصلات اور ہائی وے مینیجرز کے پورٹلز پر لائیو اپ لوڈ کیے گئے آفیشل لاگز کے مطابق اس میگا انفراسٹرکچر مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر ملتان مظفر گڑھ میانوالی شاہراہ منصوبہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ اجلاس کے دوران وزیر نے اس بات پر سخت زور دیا کہ شاہراہ پر 100 فیصد سیفٹی فیچرز اور جدید ترین ٹیکنالوجی کٹس کو فوری آٹو لاک کیا جائے۔ اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد سفری تعطل کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنا اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور بہترین گورننس انڈیکس مستقل طور پر فروغ دینا ہے۔
مانسہرہ ناران ماڈل روڈ اور گورو نانک ایکسپریس وے کا آڈٹ
اجلاس کے دوران ریگولیٹری مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر لائیو سنک کی گئی رپورٹ کے مطابق مانسہرہ سے ناران تک 123 کلومیٹر طویل ماڈل روڈ کی فیسیبلٹی اسٹڈی تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو چین کے ساتھ سیاحت اور تجارت کا پریمیم کوریڈور بنے گی۔ اس کے علاوہ گورو نانک ایکسپریس وے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈرنگ شروع کرنے کا پراعتماد فیصلہ کیا گیا ہے جس میں برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کی سکھ برادریوں کو کیش لیس انویسٹمنٹ پے کرنے کی دعوت دی جائے گی۔
قومی شاہراہوں کے ری مڈلنگ پلان کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق محفوظ ہے:
| ہائی وے آپریشنل پیرامیٹر لاگ | تفویض کردہ تزویراتی ہدف حجم | ریگولیٹری و مانیٹرنگ پروٹوکول |
| ملتان-میانوالی ہائی وے | 02 ماہ کی حتمی ڈیڈ لائن | 100% سیفٹی ریلنگ اور اینٹی چیٹنگ رولز فعال۔ |
| مانسہرہ-ناران ماڈل روڈ | 123 کلومیٹر طویل کوریڈور | سیاحت اور پاک چین تجارتی کلاؤڈ پورٹلز سے الائن۔ |
| گورو نانک ایکسپریس وے | بین الاقوامی انویسٹمنٹ ٹینڈر | سکھ کمیونٹی کے لیے مذہبی و تزویراتی اہمیت آٹو لاک۔ |
وزیر نے سخت ہدایت کی ہے کہ تمام نئی موٹرویز اور ہائی ویز پر واش رومز، گرین بیلٹس اور ہارٹیکلچر کو لازمی پیپر لیس فریم ورک کا حصہ بنایا جائے تاکہ ماحولیاتی انڈیکس محفوظ زون میں لاک رہے۔






