عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی ملک بھر میں قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل میں تیزی آ جاتی ہے۔ تاہم اس سال مسافروں کی حفاظت اور شاہراہوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ کیا ہے اب موٹروے پر قربانی کے جانور لے جانے والی گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ موٹروے پولیس کی پابندی کیوں لگائی گئی اور اس سے عام شہریوں اور تاجروں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
موٹروے پولیس کی پابندی کی بنیادی وجوہات
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق ماضی میں عید کے دنوں میں جانوروں سے لدی گاڑیوں کی وجہ سے کئی المناک اور جان لیوا حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ اس موٹروے پولیس کی پابندی کا مقصد درج ذیل خطرات کا سداد کرنا ہے:
اوور لوڈنگ اور غیر محفوظ طریقے: زیادہ تر تاجر گاڑیوں کی گنجائش سے زیادہ جانور لوڈ کر لیتے ہیں جس سے گاڑی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور تیز رفتار موٹروے پر الٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ: سست رفتار اور فٹنس کے معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑیاں عید کے رش کے دوران موٹروے پر شدید ٹریفک جام کا سبب بنتی ہیں
قیمتی جانوں کا تحفظ: تیز رفتاری کے دوران جانوروں کے گاڑی سے گرنے یا گاڑی کے بے قابو ہونے سے نہ صرف مویشیوں کا نقصان ہوتا ہے بلکہ دیگر مسافروں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں
چیک پوسٹس کا قیام اور متبادل راستے
اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے لیے موٹروے پولیس نے صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) نے پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس کو باقاعدہ درخواست کی ہے کہ وہ موٹروے کے تمام انٹری پوائنٹس (Entry Points) اور مویشی منڈیوں کے قریبی راستوں پر خصوصی نکے اور چیک پوسٹس قائم کریں
قربانی کے جانوروں کو لانے اور لے جانے والی تمام گاڑیوں کو موٹروے پر داخل ہونے سے روک دیا جائے گا اور انہیں متبادل قومی شاہراہوں (National Highways) اور جی ٹی روڈ جیسے غیر موٹروے راستوں پر موڑ دیا جائے گا
مال بردار گاڑیوں پر خطرناک انداز میں جانوروں کی ترسیل اور سواریوں کو بٹھانے سے گریز کریں۔ pic.twitter.com/iakskWqRJm
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) May 17, 2026
جانوروں کے ساتھ مسافروں کی سواری پر سخت ممانعت
اس اہم فیصلے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے پبلک سیفٹی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ بعض اوقات ٹرانسپورٹرز اور مالکان جانوروں کے ساتھ اسی تجارتی گاڑی یا ٹرک میں مسافروں کو بھی بٹھا لیتے ہیں۔ موٹروے پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک سنگین قانونی جرم ہے۔ جانوروں کے ساتھ انسانوں کو بٹھانا قانوناً ممنوع ہے اور ایسی گاڑیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ موٹروے کے انٹرچینجز اور مویشی منڈیوں کے ارد گرد گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ کے خلاف بھی گرینڈ کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ عید کے مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مسافروں اور تاجروں کے لیے اہم ہدایات اور ہیلپ لائن
اگر آپ عید کے دنوں میں سفر کر رہے ہیں یا اپنے قربانی کے جانور گھر لا رہے ہیں تو درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:
موٹروے پر جانے کے بجائے پہلے سے ہی متبادل اور محفوظ راستوں کا انتخاب کریں۔
اپنی گاڑی کی فٹنس لازمی چیک کریں اور اوور لوڈنگ سے مکمل گریز کریں
کسی بھی ہنگامی صورتحال حادثے یا راستوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے موٹروے پولیس کی آفیشل ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریںیہ موٹروے پولیس کی پابندی محض تاجروں کو تنگ کرنے کے لیے نہیں بلکہ عید کے پرمسرت موقع پر آپ کے اور آپ کے پیاروں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے لگائی گئی ہے۔ لہٰذا قانون کی پاسداری کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔






