اسلام آباد ہائی کورٹ، درختوں کی کٹائی پر پابندی کے تحت آج 17 اپریل 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے وفاقی دارالحکومت کے سکڑتے ہوئے سبزے کو بچانے کے لیے ایک اہم اور جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ عدالت نے آج صبح سویرے ایک اہم سماعت کے دوران اسلام آباد کی نامزد کردہ "گرین بیلٹس” میں درختوں کی ہر قسم کی تجارتی کٹائی کے خلاف فوری طور پر حکمِ امتناعی (Stay Order) جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ماحولیاتی کارکنوں اور اسلام آباد کے شہریوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
درختوں کی تجارتی کٹائی پر عدالت کا بڑا ایکشن
اسلام آباد جسے کبھی دنیا کے سبز ترین دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا تھا حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور تجارتی قبضوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار رہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کو روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج صبح 9:15 بجے ایک تاریخی ریمارکس میں شہر کی گرین بیلٹس کے اندر ہر قسم کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے درخت کاٹنے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شہر کے یہ "سبز پھیپھڑے” (green lungs) فروخت کے لیے نہیں ہیں اور ان کا تحفظ اسلام آباد کے اصل ماسٹر پلان کے مطابق ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
عدالتی فیصلہ: اسلام آباد کے ماحولیاتی ورثے کا تحفظ
عدالت کا یہ حکم ان درخواستوں کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تجارتی منصوبوں کے لیے زمین صاف کرنے کی غرض سے کی جانے والی غیر قانونی کٹائی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ معزز جج نے مشاہدہ کیا کہ گرین بیلٹس خالصتاً غیر تجارتی علاقے ہیں جن کا مقصد ماحول کو صاف رکھنا اور شہر کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہے۔
عدالت نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) اور پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (Pak-EPA) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ اگلے نوٹس تک تجارتی بنیادوں پر ایک بھی درخت نہ کاٹا جائے۔ اس حکم سے انفراسٹرکچر کے ان تمام منصوبوں پر کام رک گیا ہے جو عوامی گرین اسپیسز پر تجاوز کر رہے تھے۔
گرین بیلٹس میں درختوں کی کٹائی کیوں روکی گئی؟
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان اہم وجوہات کی نشاندہی کی جن کی بنا پر یہ ہنگامی پابندی لگائی گئی:
ماسٹر پلان کی خلاف ورزی: اسلام آباد کا اصل 1960 کا ماسٹر پلان رہائشی، تجارتی اور سبز علاقوں کی واضح تقسیم کرتا ہے، جس کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔
موسمیاتی تبدیلی کے خدشات: دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیشِ نظر، عدالت نے تسلیم کیا کہ پرانے درختوں کا خاتمہ "اربن ہیٹ آئی لینڈ” کے اثر کو مزید شدید کر رہا ہے۔
ای آئی اے (EIA) کی عدم موجودگی: رپورٹ کے مطابق کئی تجارتی کٹائیاں پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (Pak-EPA) کی مناسب منظوری اور انوائرمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ کے بغیر کی جا رہی تھیں۔
سی ڈی اے (CDA) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار
عدالت نے سی ڈی اے کو حکم دیا ہے کہ وہ شہر کی گرین بیلٹس کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ اس کے ساتھ ہی، عدالت نے انتباہ کیا کہ اگر کوئی بھی سرکاری افسر غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں سہولت کاری کرتا یا درختوں کی کٹائی کے لیے "بیک ڈور ڈیل” میں ملوث پایا گیا، تو اس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
توقع ہے کہ اس فیصلے کے بعد "گرین زون” قرار دی گئی تمام زمینوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کتنے علاقوں کو غیر قانونی طور پر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی شہری ترقی پر طویل مدتی اثرات
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ پابندی شہر کی ترقی کے لیے ایک ضروری "ری سیٹ” (reset) ہے۔ تجارتی پھیلاؤ کے بجائے ماحول کو ترجیح دے کر، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ایسی قانونی مثال قائم کر دی ہے جو لاہور اور کراچی جیسے دیگر بڑے شہروں میں ماحولیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں






