پاکستان کے وفاقی پبلک سیفٹی انفراسٹرکچر، شہری ترقی اور وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ کے کوریڈورز سے دارالحکومت کے شہریوں کے لیے ایک انتہائی اہم انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایمرجنسی رسپانس کی صلاحیت کو سال 2009 کے بعد سب سے بڑا فروغ ملنے جا رہا ہے جس کے تحت 21 جدید ترین ریسکیو اور فائر فائٹنگ گاڑیاں کراچی پورٹ پر پہنچ چکی ہیں اور انہیں جلد ہی کیپیٹل ایمرجنسی سروس اور فائر بریگیڈ کے بیڑے کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کو دی گئی آفیشل بریفنگ کے مطابق اس نئے بیڑے میں 4 ایریل فائر ٹرکس، 6 فائر ٹاورز اور 5 فائر ٹینڈرز شامل ہیں جو جدید ترین ایمرجنسی آلات سے لیس ہیں۔ یہ خصوصی گاڑیاں بلند و بالا عمارتوں میں سیکیورٹی پروٹوکول کو آٹو لاک کرتے ہوئے 256 فٹ کی بلندی تک فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشنز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جس سے شہری زونز میں کسی بھی بڑے حادثے کا خدشہ یکسر فیز آؤٹ ہو جائے گا۔
ستمبر 2026 کے ایمرجنسی ورک لوڈ کا آڈٹ
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیرِ انتظام چلنے والی کیپیٹل ایمرجنسی سروس پر بڑھنے والے بوجھ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سروس نے صرف ستمبر 2026 کے دوران 1,475 ہنگامی کالز پر لائیو رسپانس پے کیا۔ ان ڈیٹا لاگز میں 1,152 میڈیکل ایمرجنسیز، 82 آتشزدگی کے واقعات اور 123 پچیدہ ریسکیو آپریشنز شامل ہیں جن کا لائیو ڈیش بورڈ جیو لوکیشن کلاؤڈ سسٹمز کے ساتھ سنک رہے گا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔






