پاکستان میں عوام ایک بار پھر افراطِ زر (Inflation) کے شدید دباؤ کی زد میں آ گئے ہیں۔ تازہ ترین ہینڈ آؤٹ کے مطابق مئی میں صارف اشاریہ قیمت (CPI) کی بنیاد پر سالانہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ اپریل کے 10.9 فیصد کے مقابلے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔ یہ گزشتہ 23 ماہ کے دوران ملک میں مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے جس نے مرکزی بینک کے مقرر کردہ ہدف کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور بڑے تجارتی راستوں پر سپلائی چین کی بندش کے باعث پیٹرولیم مصنوعات اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں سالانہ بنیادوں پر 36.8 فیصد کا خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے جون کے اس مہینے میں روزمرہ کے کچن گروسری آئٹمز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا واضح رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
جون 2026 میں مہنگی ہونے والی کچن گروسری اور غذائی اشیاء کی فہرست
ماہانہ رپورٹ کے مطابق مئی کے آخری ہفتے سے ہی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹوں میں اشیائے خوردونوش پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس لاگت بڑھنے کی وجہ سے جون کے مہینے میں درج ذیل بنیادی اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہونے کا خدشہ ہے:
آٹا اور گندم: مئی کے دوران ہی شہری علاقوں میں آٹے کی ماہانہ قیمت میں 11.21 فیصد اور گندم کی قیمت میں 7.78 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا اثر جون کی سپلائی پر براہِ راست پڑے گا۔
برائلر مرغی کا گوشت اور بیف: چکن کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتوں کے دوران فی کلو 48 روپے سے زائد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیاa اور اس وقت اوپن مارکیٹ میں چکن کی قیمتیں 540 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ چارے کی قیمت بڑھنے سے گوشت (Meat) کی قیمت میں 2.25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دودھ اور دہی کی مصنوعات: مئی کے دوران ہی تازہ دودھ کی قیمتوں میں 1.41 فیصد اور ڈیری پروڈکٹس میں 1.46 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث جون میں دودھ، دہی اور مکھن کے نئے ریٹس لاگو کیے جا رہے ہیں۔
کاکنگ آئل اور ویجیٹیبل گھی: پٹرولیم لیوی اور امپورٹڈ پام آئل پر فریٹ چارجز بڑھنے کی وجہ سے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بالترتیب 0.88% اور 0.91% کا اضافہ ہو رہا ہے۔
آلو اور بیکری آئٹمز: کچن کی سب سے بنیادی سبزی آلو کی قیمتوں میں 4.01 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بیکری اور کنفیکشنری آئٹمز کی قیمتیں بھی 2.40 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
ہاؤسنگ، بجلی اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ
صرف کھانے پینے کی اشیاء ہی نہیں بلکہ پبلک یوٹیلیٹیز نے بھی گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہاؤسنگ, پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے مشترکہ اخراجات میں سالانہ بنیادوں پر 16.78 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایل پی جی (LPG) کے گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جس نے متبادل ایندھن استعمال کرنے والے دیہی اور شہری صارفین دونوں کے کچن بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
عید الاضحیٰ کی آمد اور مصالحہ جات کی قیمتوں میں اضافہ
جون کا مہینہ پاکستان میں عید الاضحیٰ (بقرعید) کا مہینہ بھی ہے جس کی وجہ سے منڈیوں میں پیاز، ادرک، لہسن اور ٹماٹر جیسے بنیادی مصالحہ جات کی طلب میں اچانک شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ مئی کے وسط میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں عارضی کمی دیکھی گئی تھی، لیکن عید کی آمد اور سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے مقامی دکان داروں نے اوپن مارکیٹ میں ادرک کی قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو اور لہسن کی قیمت 450 روپے فی کلو تک پہنچا دی ہے جس کی وجہ سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو مارکیٹ میں متحرک ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔






