اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں اپنی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر باقاعدہ سماعت کے لیے 10 نومبر 2026 کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ عدالتِ عالیہ کا ایک دو رکنی ڈویژن بینچ جس کی سربراہی چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف کر رہے ہیں ان اپیلوں پر سماعت کرے گا۔ عدالت نے دفاع کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو اپنے دلائل شروع کرنے کا آخری موقع فراہم کیا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر کو دلائل کا آخری موقع
اس سے قبل ہونے والی سماعتوں میں بیرسٹر سلمان صفدر نے اعتراض اٹھایا تھا کہ جیل میں قید ان کے مؤکلین (عمران خان اور بشریٰ بی بی) تک ان کی رسائی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اپیلوں پر کارروائی آگے بڑھانے سے قاصر ہیں۔ تاہم حالیہ ملاقات کے بعد اب یہ اعتراض ختم ہو چکا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے واضح کیا ہے کہ اب اس معاملے میں مزید کوئی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سے قبل جولائی میں بھی عدالت نے دفاعی کونسل کو حتمی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر دلائل شروع نہ کیے گئے تو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر ہی اپیلوں کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپیلیں اب اپنے حتمی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں دونوں فریقین کے دلائل تفصیلی طور پر سنے جائیں گے۔
یہ پورا معاملہ القادر ٹرسٹ سیٹلمنٹ سے متعلق ہے جس میں قومی احتساب بیورو (NAB) نے الزام عائد کر رکھا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی اہلیہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے اربوں روپے اور قیمتی اراضی حاصل کی۔ نیب کی جانب سے اس کیس میں دونوں ملزمان کو احتساب عدالت سے سزائیں سنائی گئی تھیں جس کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ 10 نومبر کو ہونے والی یہ سماعت ملزمان کے قانونی مستقبل اور اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل تصور کی جا رہی ہے۔






