پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ، نایاب پرندوں اور جانوروں کی طبی دیکھ بھال اور سمندری و زمینی حیاتیاتی تنوع کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ایک انتہائی تاریخی اور انقلابی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن اور ماحولیاتی مائنڈ سیٹ کے عین مطابق صوبائی حکومت نے باقاعدہ طور پر پہلا وائلڈ لائف ہسپتال پنجاب کی تعمیر مکمل کر کے اسے فعال کر دیا ہے۔
8 ستمبر 2026 کو پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ایک اعلیٰ سطحی دورے کے دوران اس فلیگ شپ ہسپتال کا باقاعدہ معائنہ کیا اور اس کے سٹرکچرل فریم ورک کو لائیو آن لائن پورٹلز پر لانچ کیا۔ یہ ہسپتال صوبائی دارالحکومت لاہور کے مشہور سفاری زو میں قائم کیا گیا ہے، جہاں پنجاب بھر سے لائے جانے والے زخمی، بیمار اور نایاب جنگلی جانوروں کو کلاؤڈ اور سائنسی مینوئل کے تحت بین الاقوامی معیار کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔
12 آپریشن تھیٹرز اور ایڈوانسڈ تشخیصی نیٹ ورک کا مینوفیکچرڈ پلان
محکمہ وائلڈ لائف اینڈ پارکس کے جاری کردہ آفیشل مینوئل اور برتھنگ ڈیٹا کے مطابق اس ہسپتال کی مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر کو کسی عام ویٹرنری کلینک کے روایتی کسٹمز سے ہٹ کرمکمل طور پر ایک بین الاقوامی ماڈل پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ہسپتال کے بنیادی سائنسی اور لاجسٹک خدوخال درج ذیل ہیں:
12 جدید ترین آپریشن تھیٹرز: ہسپتال کے اندر بیک وقت مختلف اقسام کے درندوں، پرندوں اور چوپایوں کی سرجری کے لیے 12 ہائی ٹیک آپریشن تھیٹرز مینوفیکچر کیے گئے ہیں۔
2 معائنہ رومز : جانوروں کی آمد پر فوری اسکریننگ اور لائیو ٹیسٹنگ کے لیے 2 بڑے اور جدید تشخیصی رومز قائم ہیں۔
پورٹیبل ڈیجیٹل ایکس رے سروس: ہسپتال کو پاکستان کی پہلی پورٹیبل ڈیجیٹل ایکس رے ٹیکنالوجی اور الٹراساؤنڈ سوفٹ ویئر فراہم کیا گیا ہے جس کی بدولت فیلڈ ڈاکٹرز خطرناک جانوروں کو موو کیے بغیر ان کے انکلوژر کے اندر ہی لائیو ریڈیولوجیکل اسکیننگ کر سکتے ہیں۔
جلو پارک کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ایکو ٹورازم کا نیا ماسٹر پلان
سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں صرف ہسپتال ہی نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر تعلیمی اور تفریحی نیٹ ورکس کی توسیع کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے لاہور کے مشہور جلو پارک کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت ایک جدید ترین ایکو ٹورازم مرکز بنانے کے بزنس پلان کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ سفاری زو لاہور میں سیاحوں کے تفریحی انڈیکس کو بڑھانے کے لیے جدید ترین جراف کیفے اور ٹری ہاؤس کیفے کی مینوفیکچرنگ بھی کامیابی سے مکمل کی جا چکی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور تھرمو کیمروں کے ذریعے جنگلات کا تحفظ
صوبے کے گرین کوریڈورز اور جنگلات کو لاگنگ مافیا اور آگ لگنے کے ناگہانی واقعات سے بچانے کے لیے پنجاب حکومت نے پہلی بار ایک مکمل پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ سکیورٹی مینوئل نافذ کیا ہے۔
اس نئے سائنسی فریم ورک کے تحت درج ذیل 3 اسمارٹ فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں:
اے آئی لانگ رینج تھرمل کیمرے: جنگلات کے اندر مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس تھرمل کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو آگ کی چنگاری کا ابتدائی مرحلے میں سراغ لگا کر منٹوں میں ڈیجیٹل الرٹ جنریٹ کرتے ہیں۔
سیٹلائٹ اور لائیو سرویلنس: کلاؤڈ سسٹمز اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے چھانگا مانگا اور دیگر جنگلات کی چوبیس گھنٹے لائیو ٹریکنگ کی جا رہی ہے۔
جیو ٹیگڈ نرسریاں: پنجاب نے ایک سال میں 5 کروڑ پودے لگانے کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے اور اس وقت صوبے میں 285 جیو ٹیگڈ نرسریاں لائیو سوفٹ ویئر ریکارڈ کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
اسٹریٹجک مینیجرز نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ 5,000 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل فارسٹ رینجرز فورس میں پہلی بار 215 خواتین رینجرز کو شامل کیا گیا ہے جو صنفی مساوات اور ڈیجیٹل گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔






