فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے بیوروکریسی میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور سخت فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے نئے قوانین کے تحت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے تمام گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے زیرِ کفالت اہل خانہ کی غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹس، سفری دستاویزات اور غیر ملکی شہریوں سے کی جانے والی شادیوں کی تمام تفصیلات فوری طور پر ظاہر کریں۔ ایف بی آر افسران کی دوہری شہریت اور دیگر خفیہ غیر ملکی اثاثوں یا وابستگیوں کو سامنے لانے کے لیے یہ اب تک کا سب سے بڑا انتظامی کریک ڈاؤن مانا جا رہا ہے۔
سول سرونٹس رولز 2026 اور 90 روزہ ڈیڈ لائن کا خاتمہ
یہ سخت احکامات وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ سول سرونٹس (ڈسکلوژر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026 کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔ ان قوانین کو یکم جون 2026 کو وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری سے نوٹیفائی کیا گیا تھا جس کے تحت تمام سرکاری ملازمین کو اپنی دوہری شہریت ظاہر کرنے کے لیے 90 دن کی مہلت دی گئی تھی۔ یہ قانونی مدت 30 اگست 2026 کو ختم ہو چکی ہے۔ ڈیڈ لائن گزرنے کے فوری بعد، ایف بی آر کے مینجمنٹ ونگ نے یکم ستمبر 2026 کو ایک فائنل یاددہانی جاری کی ہے کیونکہ متعدد افسران نے اب تک مطلوبہ فارم جمع نہیں کروائے ہیں۔ اب تمام نادہندہ افسران کو بغیر کسی تاخیر کے یہ ڈیٹا فراہم کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
پاسپورٹ، گرین کارڈ اور غیر ملکی شادیوں کا ڈیکلریشن
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ مخصوص پروفارما کے مطابق افسران صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہیں ایک جامع ڈیکلریشن فارم جمع کروانا ہوگا۔ اس فارم میں درج ذیل معلومات کا برانڈ لازمی قرار دیا گیا ہے:
ذاتی غیر ملکی حیثیت: کیا افسر کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت، پاسپورٹ، یا مستقل رہائشی کارڈ (جیسے گرین کارڈ یا پی آر) موجود ہے؟
اہلِ خانہ کی تفصیلات: افسران کی بیوی/شوہر اور ان کے زیرِ کفالت بچوں کے پاس کس ملک کا پاسپورٹ یا امیگریشن اسٹیٹس ہے۔
غیر ملکی شادیاں: کیا افسر یا اس کے بچوں نے کسی غیر ملکی شہری سے شادی کی ہے؟ اور کیا اس شادی کے لیے گورنمنٹ سرونٹس (میراج ود فارن نیشنلز) رولز 1962 کے تحت حکومت سے پیشگی باقاعدہ اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔
معلومات چھپانے یا غلط بیانی پر نوکری سے برطرفی کا خطرہ
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اب اس معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ جو افسران مقررہ وقت کے اندر اپنے فارم متعلقہ مینجمنٹ ونگ کے سیکرٹریز کو ای میل کے ذریعے جمع نہیں کروائیں گے یا اگر کسی نے جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کیں تو اسے سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت سنگین مس کنڈکٹ تصور کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایف بی آر افسران کی دوہری شہریت چھپانے والوں کے خلاف فوری طور پر تادیبی اور محکمانہ کارروائی شروع کی جائے گی جس کے نتیجے میں انہیں ملازمت سے برطرف یا تنزلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی معیشت کے اتنے حساس ادارے میں سیکیورٹی، وفاداری اور مفادات کے تصادم کو روکنا ہے۔






