فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اپنے پاور پلانٹس یا سیلف جنریشن کے ذریعے بجلی پیدا کر کے چلنے والے اسٹیل مینوفیکچررز کے لیے سیلز ٹیکس کی ادائیگی اور ایڈجسٹمنٹ کا ایک بالکل نیا اور جامع طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 31 کے تحت ایسے تمام اسٹیل میلٹرز اور ری رولرز جو کیپٹو پاور پر کام کر رہے ہیں انہیں متعلقہ ٹیکس مدت کے دوران فولاد سازی کے لیے استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس کی بنیاد پر مقررہ شرح سے اضافی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
ریکارڈ کی دیکھ بھال اور پی ایس آئی ڈی چالان کی تیاری
ایف بی آر کے نئے احکامات کے مطابق تمام رجسٹرڈ اسٹیل ملز مالکان کے لیے اپنے ہاں پیدا ہونے والی اور مینوفیکچرنگ کے لیے استعمال ہونے والی بجلی کا مکمل اور درست ریکارڈ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ٹیکس دہندگان کو ہر ٹیکس مدت کے دوران استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس اپنے ماہانہ سیلز ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کرنے ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر پورٹل پر اسٹیل مینوفیکچررز کے لیے ایک خصوصی پی ایس آئی ڈی (PSID) چالان اور کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ ریسیپٹ (CPR) کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے جس کے ذریعے ٹیکس ہر ماہ کی 5 تاریخ تک جمع کرانا ہوگا۔
سیلز ٹیکس ریٹرن فارم میں ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ
خصوصی چالان کے ذریعے جمع کرایا گیا یہ اضافی سیلز ٹیکس گوشوارے (STR-7) کی رو 23c میں ظاہر کیا جائے گا جبکہ قانون کے مطابق اس کے برابر رقم رو 1a میں ان پٹ ٹیکس کے طور پر آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کی جا سکے گی۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ جب تک بینک سے سی پی آر کی تصدیق نہیں ہوگی تب تک ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو فیکٹریوں کے ریکارڈ کے مطابق بجلی کے یونٹس کی تصدیق کرنے اور کسی بھی قسم کی غلط بیانی یا شارٹ پیمنٹ کی صورت میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت سخت قانونی کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔






