وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کے مشہور فاطمہ جناح پارک (ایف نائن پارک) کی اپ گریڈیشن کے دوران ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں اور ماحولیاتی کارکنوں کو 100 فیصد یقین دہانی کرائی کہ اس ترقیاتی منصوبے کے تحت پارک میں کسی قسم کی نئی کنکریٹ کی عمارتیں یا ڈھانچے تعمیر نہیں کیے جائیں گے۔
ترقیاتی منصوبے کے اہم خدوخال اور نئی سہولیات
وزیر داخلہ کے مطابق اس اپ گریڈیشن پلان کا بنیادی مقصد ایف نائن پارک اسلام آباد کو فیملیز اور سیاحوں کے لیے زیادہ خوبصورت، سرسبز اور محفوظ بنانا ہے۔ منصوبے میں جدید لائٹنگ سسٹم ایک خوبصورت نئی جھیل کی تعمیر، کافی شاپس کا قیام اور واک ویز (پیدل چلنے کے راستوں) کی حالت کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پارک کی ماحولیاتی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے ہزاروں نئے درخت بھی لگائے جائیں گے۔
شہریوں کے تحفظات اور ماضی کا پس منظر
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر ماحولیاتی کارکنوں اور اساتذہ نے ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے انتظامیہ سے اپیل کی کہ 400 ایکڑ پر محیط اس قدرتی پارک کو محض تعمیرات کی قربانی نہ بنایا جائے۔ واضح رہے کہ 2023 میں سی ڈی اے نے پولن الرجی کے خاتمے کے لیے 7 ہزار شہتوت کے درخت کاٹے تھے جس کے بعد سے شہری پارک میں کسی بھی قسم کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔






