پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ایک اہم سفارتی مشن پر ہاشمی سلطنتِ اردن کے دارالحکومت عمان پہنچ گئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں بالخصوص القدس (یروشلم) میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم امہ کو یکجا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار اردن کی دعوت پر منعقد ہونے والے یروشلم وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جہاں وہ مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور القدس کے تاریخی و اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے پاکستان کا اصولی اور مضبوط مؤقف دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
عمان آمد پر اسحاق ڈار کا پرتپاک استقبال اور پروٹوکول
اردن کے دارالحکومت عمان پہنچنے پر نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ہوائی اڈے پر اردن کی وزارتِ خارجہ اور تارکینِ وطن کی ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ کی ڈائریکٹر محترمہ سجا المجالی نے حکومتِ اردن کی جانب سے ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر اردن میں متعین پاکستان کے سفیر میجر جنرل (ریٹائرڈ) خرم سرفراز خان اور پاکستانی سفارت خانے کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، نائب وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور اردن کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ مسائل پر یکساں سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 joined fellow Foreign Ministers from the Arab League and the Group of Muslim Countries for the official group photo at the Ministerial Meeting on Jerusalem in Amman. pic.twitter.com/yFX0PTHhbU
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
یروشلم وزارتی اجلاس اور پاکستان کا اصولی مؤقف
اسحاق ڈار کے دورہ اردن کا بنیادی اور اہم ترین مقصد یروشلم (القدس) کے معاملے پر بلائے گئے اعلیٰ سطح کے وزارتی اجلاس میں شرکت کرنا ہے۔ ہاشمی سلطنتِ اردن کی جانب سے بلائے گئے اس اجلاس میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اور اہم سفارت کار شریک ہو رہے ہیں تاکہ بیت المقدس کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر مشاورت کی جا سکے۔
پاکستان ہمیشہ سے القدس الشریف کو فلسطین کا مستقل دارالحکومت اور مسلمانوں کا قبلہ اول تسلیم کرتا آیا ہے۔ اس اجلاس کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار پاکستان کی جانب سے درج ذیل اہم نکات پر زور دیں گے:
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی غیر قانونی تعمیرات کا فوری خاتمہ۔
مسجدِ اقصیٰ اور القدس کے تاریخی، قانونی اور مذہبی اسٹیٹس کا تحفظ۔
غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری انسانی بحران پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا۔
شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات اور دوطرفہ سفارتی روابط
اپنے مصروف ترین شیڈول کے دوران پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے خصوصی ملاقات کریں گے۔ اس اہم ملاقات میں اسحاق ڈار پاکستانی قیادت اور عوام کی جانب سے شاہ اردن کے لیے خیر سگالی کا پیغام پہنچائیں گے۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور اردن کے مابین دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور تنازعہ فلسطین کے پرامن حل کے لیے دونوں رہنماؤں کے درمیان سٹریٹجک مشاورت بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
عالمی وزرائے خارجہ سے سائیڈ لائن ملاقاتیں اور علاقائی مسائل
اسحاق ڈار کا دورہ اردن صرف کانفرنس تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ اس دوران مختلف برادر ممالک سے آئے ہوئے اپنے ہم منصبوں (وزرائے خارجہ) کے ساتھ اہم ترین دوطرفہ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔
ان سائیڈ لائن ملاقاتوں کا بنیادی مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تازہ ترین صورتحال، عالمی فورمز پر مسلم ممالک کے مابین یکجہتی اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا ہے۔ پاکستان ان ملاقاتوں کے ذریعے مسلم دنیا کے درمیان اقتصادی اور سفارتی روابط کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔






