فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے اور ریٹرن فائل کرنے میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ فنانس بل کے تحت ٹیکس گوشوارے مقررہ تاریخ کے بعد جمع کروانے پر عائد ہونے والے جرمانوں اور سرچارج میں 5 گنا سے بھی زائد کا بھاری اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اب جو شہری وقت پر اپنے ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کریں گے انہیں نہ صرف بھاری جرمانے ادا کرنے ہوں گے بلکہ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں اپنا نام بحال کروانے کے لیے خطیر رقم جمع کروانی پڑے گی۔ ان جرمانوں سے بچنے کے لیے شہریوں کو بروقت اپنا آن لائن چالان چیک کر کے واجبات ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) کی اہمیت اور نئی جرمانہ پالیسی
پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایکٹو ٹیکس پیئر (Filer) ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان ایکٹو (Non-Filer) افراد پر گاڑیوں کی رجسٹریشن، جائیداد کی خرید و فروخت اور بینکنگ ٹرانزیکشنز پر دوگنا سے زائد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔
تاخیر کی عادت کا خاتمہ: ایف بی آر کے مطابق پرانی فیسیں معمولی ہونے کی وجہ سے لوگ جان بوجھ کر ریٹرن دیر سے جمع کرواتے تھے۔ اسی لیے اب ان چارجز میں تاریخی اضافہ کیا گیا ہے۔
ان ایکٹو ہونے کا نقصان: اگر آپ کا نام اے ٹی ایل سے نکل جاتا ہے، تو جب تک آپ نیا سرچارج ادا کر کے آن لائن چالان کے ذریعے ادائیگی نہیں کرتے آپ کا اسٹیٹس بحال نہیں ہوگا۔
سخت قانونی کارروائی: لگاتار ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے کی صورت میں ایف بی آر کے پاس بجلی، گیس کے کنکشن کاٹنے اور بینک اکاؤنٹ فریز کرنے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔
اے ٹی ایل (ATL) بحالی کے لیے نئے اور پرانے چارجز کا موازنہ
نئے فنانس بل کے تحت مختلف کیٹیگریز کے ٹیکس پیئرز کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں نام دوبارہ شامل کروانے کا سرچارج درج ذیل طریقے سے بڑھایا گیا ہے:
1۔ انفرادی ٹیکس گزار (Individuals)
عام تنخواہ دار یا کاروباری افراد جو پہلے مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن فائل کرنے پر صرف 1,000 روپے جرمانہ (ATL Surcharge) ادا کر کے فائلر بن جاتے تھے، اب انہیں اے ٹی ایل میں نام بحال کروانے کے لیے 25,000 روپے ادا کرنے ہوں گے۔
2۔ ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOPs)
شراکت داری یا پارٹنرشپ پر چلنے والے کاروبار (AOPs) کے لیے لیٹ فائلنگ کی صورت میں اے ٹی ایل فیس کو 10,000 روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
3۔ رجسٹرڈ کمپنیاں (Companies)
کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیوں کے لیے یہ جرمانہ سب سے زیادہ بڑھایا گیا ہے۔ اب کسی بھی کمپنی کو تاخیر سے ریٹرن جمع کروانے پر 20,000 روپے کے بجائے پورے 100,000 روپے کا سرچارج ادا کرنا ہوگا۔
ایف بی آر پورٹل پر آن لائن چالان چیک اور ادائیگی کا طریقہ
اگر آپ نے اپنے ٹیکس گوشوارے مقررہ تاریخ کے بعد جمع کروائے ہیں، تو آپ کو ان سٹیپس کے ذریعے اپنا چالان بنانا اور ادا کرنا ہوگا:
آئی آر آئی ایس (Iris) پورٹل لاگ ان: ایف بی آر کے آفیشل آئرس پورٹل پر اپنے شناختی کارڈ اور پاس ورڈ کے ذریعے لاگ ان کریں۔
چالان کی تیاری (PSID Generation): ای-پیمنٹ (e-Payment) کے ٹیب میں جا کر "Miscellaneous” ہیڈ کو منتخب کریں اور "Surcharge for ATL” کے تحت اپنی کیٹیگری کے مطابق چالان تیار کریں۔
آن لائن چالان چیک: چالان جنریٹ ہونے کے بعد 18 ہندسوں کا پی ایس آئی ڈی (PSID) نمبر حاصل کریں اور اپنے بینکنگ ایپ یا ایزی پیسہ/جیز کیش کے ذریعے رقم کی تصدیق کریں۔
ڈیجیٹل ادائیگی: رقم کی آن لائن ادائیگی کے فوری بعد سسٹم آپ کا نام دوبارہ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل کر دے گا۔
ٹیکس جرمانوں کی یہ نئی لہر چھوٹے اور بڑے تمام ٹیکس گزاروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن کا انتظار کیے بغیر اپنے گوشوارے بروقت جمع کروائیں تاکہ ہزاروں روپے کے اضافی جرمانوں سے بچ سکیں۔
مزید اپڈیٹس اور اطلاعات کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






