پنجاب اسمبلی نے ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس نئے ترمیمی بل کے تحت اب وفاقی ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجئس ایجوکیشن (DGRE) کے ساتھ رجسٹرڈ دینی مدارس کو پنجاب صوبے میں دوبارہ رجسٹریشن کرانے کی شرط سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔
قانونی پیچیدگیوں کا خاتمہ اور نیا ایکٹ
اس تاریخی ترمیم کا بنیادی مقصد دینی مدارس کو ڈبل رجسٹریشن کے باعث پیش آنے والی قانونی پیچیدگیوں، دفتری رکاوٹوں اور انتظامی مسائل سے مستقل نجات دلانا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے سیکشن اکیس میں ایک نئی شق ون اے (1A) کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی بدولت اب وفاق سے منظور شدہ مدارس کی قانونی حیثیت صوبائی سطح پر بھی خودکار طریقے سے تسلیم کی جائے گی۔
قائمہ کمیٹی کی سفارشات اور حتمی منظوری
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر مستقبل میں قائم ہونے والے نئے مدارس کو بھی اس ڈبل رجسٹریشن کی شرط سے آزاد رکھا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی کی حتمی رپورٹ ہاؤس میں پیش ہونے کے بعد ارکانِ اسمبلی نے اکثریتی ووٹوں سے اس بل کو پاس کیا۔ پنجاب اسمبلی سے باضابطہ منظوری کے بعد اب یہ ترمیمی بل حتمی دستخط کے لیے گورنر پنجاب کو ارسال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا۔






