وفاقی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارش پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ردو بدل کے تحت ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں ڈیزل کی نئی قیمت 400 روپے 67 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب عوام کے لیے ریلیف کی بات یہ ہے کہ پیٹرول کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 377 روپے 91 پیسے پر برقرار ہے۔
روزانہ قیمتوں کے نظام کے اثرات اور حالیہ اضافہ
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ نظرِ ثانی کے نظام کے آغاز سے اب تک ایندھن کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس نئے روزانہ پرائسنگ سسٹم کے نافذ ہونے کے بعد سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 67 روپے 20 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 77… روپے 37 پیسے فی لیٹر کا بھاری اضافہ ہو چکا ہے جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مال برداری کے کرایوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پچھلے دنوں کے پیٹرولیم نرخوں کا موازنہ
اگر گزشتہ چند دنوں کے نرخوں کا جائزہ لیا جائے تو بدھ کے روز بھی پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 85 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 75 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ منگل کے روز پیٹرول 376 روپے 06 پیسے اور ڈیزل 398 روپے 07 پیسے پر فروخت ہو رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت کا 400 روپے کی نفسیاتی حد کو عبور کرنا زراعت اور صنعتی شعبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر مال بردار گاڑیاں اور زرعی مشینری اسی ایندھن پر چلتی ہیں۔






