پاکستان کے تجارتی اور معاشی نظام میں شفافیت لانے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک انتہائی اہم اور بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں قائم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا گزشتہ 3 سال کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور درآمدی قوانین کی خلاف ورزیوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے امور پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ احکامات جاری کیے گئے۔ اس اجلاس میں وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا معیشت میں کردار اور آڈٹ کی ضرورت
پاکستان کی مجموعی ملکی درآمدات کا تقریباً 16.5 فیصد حصہ بانڈڈ تجارت پر مشتمل ہے۔ اتنے بڑے حجم کے باعث یہ شعبہ ملکی معیشت اور ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز ایسے نجی یا سرکاری گودام ہوتے ہیں جہاں درآمد شدہ سامان کو کسٹمز ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر عارضی طور پر اسٹور کیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک نجی کمپنی کی جانب سے ان ہاؤسز کے ان-بانڈ اور آؤٹ-بانڈ قوانین میں ہیرا پھیری اور عارضی فائدے کے لیے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کا انکشاف ہوا تھا۔ اگرچہ اس مخصوص معاملے کی تحقیقات کر کے اسے حل کر لیا گیا ہے لیکن اس واقعے نے پورے نظام کی نگرانی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے پورے ملک کے ویئر ہاؤسز کی اسکروٹنی کا فیصلہ کیا۔
وزیر اعظم کے جاری کردہ اہم ترین احکامات
اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے درج ذیل اہم اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی:
فزیکل اسٹاک کی تصدیق: ملک بھر کے تمام کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں موجود سامان کی موقع پر جا کر جسمانی تصدیق کی جائے تاکہ ریکارڈ اور اصل سامان کا موازنہ کیا جا سکے۔
سخت قانونی کارروائی: کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے معاملات میں ملوث کرپٹ اور غفلت برتنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
لائسنسنگ اور سیکیورٹی کا جائزہ: گوداموں کو لائسنس جاری کرنے کے طریقہ کار کو مزید سخت اور شفاف بنایا جائے جبکہ ان کی سیکیورٹی اور سامان کی ویلیوایشن کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
آئی ٹی سسٹمز کی اپ گریڈیشن: ویئر ہاؤسز کے مانیٹرنگ سسٹم کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اپ گریڈ کیا جائے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے کارگو کی نگرانی کو پہلے ہی کسٹمز کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم ‘WeBOC’ سے منسلک کیا جا چکا ہے۔
ایف بی آر میں اصلاحات اور فیس لیس ٹیکس سسٹم کی ڈیڈ لائن
کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے آڈٹ کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نے ایف بی آر (FBR) کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کسٹمز کے فیس لیس ٹیکس سسٹم کے پہلے مرحلے کو نافذ کرنے کے لیے 1 اکتوبر کی حتمی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ اس جدید نظام کے تحت ٹیکس گزاروں اور کسٹمز حکام کا براہِ راست سامنا نہیں ہوگا جس سے رشوت ستانی اور مڈل مین کا کردار ختم ہو جائے گا۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم نے ایف بی آر کے چیئرمین اور سینئر افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ انفورسمنٹ کو مضبوط بنانے اور ریونیو کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ہر ماہ دو دن کراچی اور لاہور میں لازمی گزاریں۔ حساس اور اہم عہدوں پر صرف اچھے متبادل، ایماندار اور نیک نام افسران کو تعینات کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ حکومت کے ان اقدامات سے جہاں ٹیکس چوری کا خاتمہ ہوگا وہاں ملکی تجارتی نظام پر کاروباری برادری کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔






