اسلام آباد میں ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حال ہی میں ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے بلیو پاسپورٹ بل 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کا مقصد پاکستان کے سینیٹرز کو تاحیات سرکاری (آفیشل) پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ تاہم اس سہولت کے دائرہ کار کو سینیٹرز کے بچوں تک بڑھانے کی تجویز پر شدید بحث ہوئی اور وزارت داخلہ نے اس کی مخالفت کی۔
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ نیلا پاسپورٹ اصل میں کسے ملتا ہے اس کے فوائد کیا ہیں اور حالیہ دنوں میں اس کے غلط استعمال کے کون سے بڑے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔
بلیو پاسپورٹ بل 2026 کے اہم نکات
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹرز کے لیے سرکاری پاسپورٹ کے حوالے سے مندرجہ ذیل اہم فیصلے کیے گئے:
سینیٹرز کے لیے تاحیات سہولت: نئے بل کے تحت تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ سینیٹرز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف ان اراکین کو ملتی تھی جو اپنی مدت پوری کرتے تھے لیکن اب مدت مکمل نہ کرنے والے سینیٹرز بھی اس کے اہل ہوں گے۔
بچوں کے لیے تجویز مسترد: بل میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ سینیٹرز کے بچوں کو بھی 28 سال کی عمر تک بلیو پاسپورٹ دیا جائے۔ تاہم وزارت داخلہ نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا عندیہ دیا ہے کیونکہ ماضی میں اس شق کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔
سرکاری پاسپورٹ کی اقسام اور اہلیت کے معیارات جاننے کے لیے آپ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
بلیو پاسپورٹ کیا ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں؟
پاکستان میں پاسپورٹ کی تین بڑی اقسام ہیں:
سبز پاسپورٹ: عام شہریوں کے لیے۔
نیلا پاسپورٹ (Official Passport):
یہ سرکاری افسران، ججز، بیوروکریٹس اور ممبران پارلیمنٹ کو دیا جاتا ہے۔
سرخ پاسپورٹ (Diplomatic Passport):
یہ سفارت کاروں اور اعلیٰ ترین ریاستی عہدیداران کے لیے مخصوص ہے۔
بلیو پاسپورٹ کے فوائد:
بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو دنیا کے کئی ممالک میں ویزا کے حصول میں آسانی ہوتی ہے۔ کچھ ممالک کے ساتھ سرکاری سطح پر معاہدوں کے تحت بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کو ویزا فری انٹری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس پر امیگریشن کا عمل بھی عام پاسپورٹ کی نسبت تیز ہوتا ہے۔
بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال: پناہ گزینی (Asylum) کے کیسز
کمیٹی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیا:
رکن قومی اسمبلی کے بیٹے کا کیس: ایک ایم این اے (MNA اقبال آفریدی) کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے یورپ کا سفر کیا اور وہاں پہنچ کر اٹلی میں سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواست دائر کر دی۔ اس عمل نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جب ایسے سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد دوسرے ممالک میں جا کر پناہ مانگتے ہیں تو وہ ممالک پاکستان کے ساتھ ویزا فری معاہدے (MoUs) کرنے سے کتراتے ہیں۔
موجودہ اعدادوشمار اور حکومتی اقدامات
سینیٹر عبد القادر کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 60,000 افراد کے پاس بلیو پاسپورٹ موجود ہیں جن میں زیادہ تر بیوروکریٹس اور ججز شامل ہیں۔ حکومت نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس تعداد کو کم کیا جائے گا اور قوانین کو سخت کیا جائے گا تاکہ صرف واقعی حقدار افراد ہی یہ مراعات حاصل کر سکیں۔
مزید برآں سینیٹ آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق نئے ترامیم کا مقصد اعلیٰ عہدیداران کے درمیان یکسانیت (Parity) لانا ہے۔بلیو پاسپورٹ بل 2026 سینیٹرز کے لیے تو خوشخبری لایا ہے لیکن اس نے سرکاری مراعات کے غلط استعمال پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اس سہولت کو صرف سرکاری ڈیوٹی تک محدود رکھا جائے تاکہ اسے ذاتی فائدے یا بیرون ملک فرار ہونے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔






