آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے شہریوں، طلبہ، فری لانسنگ مینیجرز اور کاروباری اداروں کے لیے ایک طویل انتظار کے بعد بڑی اور خوش آئند پیشرفت سامنے آئی ہے۔ نو منتخب وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کے عوامی وعدے کے عین مطابق، ریاست بھر میں آزاد کشمیر انٹرنیٹ بحالی 2026 کا عمل باقاعدہ طور پر مراحل وار شروع کر دیا گیا ہے۔
آج، 31 اگست 2026 کو آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل اور نوٹیفکیشن کے تحت، مختلف اضلاع میں انٹرنیٹ کوریڈورز کو سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ وادی میں امن و امان کی صورتحال اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے پیشِ نظر پچھلے تین ماہ سے انٹرنیٹ سروسز معطل تھیں جس سے تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی تھیں۔
ڈویژنز اور اضلاع کے لحاظ سے انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا نقشہ
محکمہ داخلہ کے اسٹرکچرل نوٹیفکیشن کے مطابق ریاست کے تمام حصوں میں ایک ساتھ انٹرنیٹ فعال نہیں کیا گیا بلکہ مقامی حالات اور لاجسٹک سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل اسکیلنگ کی گئی ہے:
مکمل بحالی والے اضلاع: مظفرآباد ڈویژن کے ضلع نیلم اور پونچھ ڈویژن کے ضلع حویلی کہوٹہ میں انٹرنیٹ سروسز کو فوری طور پر مکمل بحال کر دیا گیا ہے۔
میرپور ڈویژن کی صورتحال: میرپور اور بھمبر کے اضلاع میں لینڈ لائن انٹرنیٹ یعنی ڈی ایس ایل کو بحال کر دیا گیا ہے تاکہ تجارتی ادارے کام شروع کر سکیں۔
مشروط اور وائٹ لسٹڈ ڈی ایس ایل: جہلم ویلی، باغ، دھیرکوٹ اور کوٹلی میں ڈی ایس ایل سروسز فی الوقت صرف تعلیمی اداروں اور بینکوں کے لیے بحال کی گئی ہیں۔
تعلیمی اداروں اور بینکوں کے لیے سخت مینوئل اور حلف نامے کی شرط
ایسے اضلاع جہاں انٹرنیٹ سروسز کو مشروط طور پر صرف اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور بینکنگ فیسلٹیز کے لیے وائٹ لسٹ کیا گیا ہے وہاں انتظامی مینیجرز پر سخت ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ اداروں کے سربراہان کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ سرکاری محکموں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو باقاعدہ حلف نامے جمع کرائیں۔
ان حلف ناموں کے مینوئل ضوابط درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
قومی سلامتی کی یقین دہانی: ادارے اس بات کے پابند ہوں گے کہ انٹرنیٹ کنکشنز کو کسی بھی ایسی سرگرمی، بیانیے یا پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا جو ملکی مفاد، امن و امان یا قومی سلامتی کو متاثر کرے۔
ٹیکنیکل ڈیٹا کی فراہمی: تمام محکموں کو اپنے موجودہ GPON اور DSL کنکشنز کا سائنسی ڈیٹا فوری فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ سافٹ ویئر اسکیننگ کے ذریعے صرف منظور شدہ برانچز کو ہی رسائی مل سکے۔
پونچھ ڈویژن میں تاحال پابندی برقرار اور موبائل ڈیٹا (3G/4G) کی بندش
ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پونچھ ڈویژن کے دو انتہائی حساس اضلاع یعنی راولاکوٹ اور سدھنوتی میں انٹرنیٹ سروسز تاحال مکمل طور پر معطل رہیں گی اور وہاں تاحال کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔
علاوہ ازیں وائی فائی اور لینڈ لائن ڈی ایس ایل کی جزوی بحالی کے باوجود پورے آزاد کشمیر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروسز (3G/4G/5G) پر عائد پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔ ٹیلی کام مینیجرز اور وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر ان سروسز کو آن لائن لانے کے حوالے سے حتمی ڈیجیٹل آڈٹ ابھی جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی موبائل ڈیٹا پورٹل لائیو کیا جائے گا۔ نو منتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت وادی کے راستوں اور ڈیجیٹل کوریڈورز کو مکمل کھول کر عوام کا احساسِ محرومی ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔






