مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید فوجی و تزویراتی کشیدگی اور اپنی حساس ترین ایٹمی تنصیبات پر ممکنہ بیرونی حملوں کے پیشِ نظر ایران نے باقاعدہ طور پر اپنا انتہائی خفیہ اور جامع ایٹمی ایمرجنسی پروٹوکول نافذ کر دیا ہے۔ تہران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے قریبی ذرائع کے مطابق ملک کے سویلین اور فوجی ایٹمی پروگرامز کو کسی بھی ناگہانی آفت، فضائی حملے، یا سائبر حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے دفاعی اقدامات کو اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے۔
حساس ایٹمی مقامات پر سیکیورٹی ہائی الرٹ اور ڈیفنس سسٹم کا نفاذ
اس ہنگامی پلان کے متحرک ہوتے ہی، ایران کے سب سے اہم اور حساس ترین جوہری مراکزبشمول نتانز (Natanz)، فوردو (Fordow) اور اصفہان (Isfahan) کی نیوکلیئر تنصیبات—کے اطراف سیکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ ان مقامات پر روس کے فراہم کردہ جدید ترین S-400 دفاعی میزائل سسٹم اور مقامی طور پر تیار کردہ فضائی مدافعت کے آلات چوبیس گھنٹے فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی امکانی فضائی کارروائی کا فوری جواب دیا جا سکے۔
ایران کا جوہری ہنگامی پلان فعال ہونے کے بعد مندرجہ ذیل ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے ہیں:
زیرِ زمین منتقلی: انتہائی حساس ایٹمی مواد، سینٹری فیوجز اور اہم تحقیقی دستاویزات کو پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی گہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل ناکہ بندی: سائبر حملوں جیسے ماضی کے اسٹکس نیٹ وائرس کے تدارک کے لیے ایٹمی کنٹرول سسٹمز کو بیرونی انٹرنیٹ نیٹ ورکس سے مکمل طور پر منقطع کر دیا گیا ہے۔
ہنگامی مشقیں: تنصیبات کے اندر موجود سائنسدانوں، انجینئرز اور سیکیورٹی عملے کو ممکنہ تابکاری کے اخراج اور ہنگامی انخلاء کی خصوصی مشقیں کروائی جا رہی ہیں۔
عالمی ردِعمل اور علاقائی سلامتی پر اس کے گہرے اثرات
بین الاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے اس دفاعی پلان کا فعال ہونا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تہران اپنے خلاف کسی بڑے فوجی ایکشن کی توقع کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ خطے میں کسی بھی جوہری مقام پر حملہ نہ صرف پورے مڈل ایسٹ کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتا ہے بلکہ یہ بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تہران کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام محض ایک حفاظتی پروٹوکول ہے لیکن کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران کا جواب تاریخی اور انتہائی سخت ہوگا۔






