پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز محمد عامر نے انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے اگلے ایڈیشن کے لیے ہونے والی منی نیلامی میں شرکت کی تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور میڈیا کے مختلف حلقوں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ محمد عامر برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد ایک غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر آئی پی ایل کے ڈرافٹ کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ تاہم اب سٹار کرکٹر نے خود سامنے آکر ان خبروں کی حقیقت واضح کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر محمد عامر کی وضاحت اور افواہوں کا خاتمہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ایک مختصر لیکن واضح پیغام میں محمد عامر نے مداحوں کو سچائی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے لکھا، "ہیلو ہر کوئی، میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آئی پی ایل کے حوالے سے گردش کرنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔”
محمد عامر کا آئی پی ایل کے متعلق بیان آنے کے بعد ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جو گزشتہ چند دنوں سے بھارتی اور پاکستانی میڈیا کی شہ سرخیوں کا حصہ بنی ہوئی تھیں۔ ان افواہوں کو اس وقت تقویت ملی جب محمد عامر نے حال ہی میں افغانستان پریمیئر لیگ (APL) کے ڈرافٹ میں ایک یو کے (UK) نیشنل یا برطانوی شہری کے طور پر رجسٹریشن کروائی تھی۔
برطانوی شہریت اور آئی پی ایل کا پس منظر
واضح رہے کہ محمد عامر نے مئی 2026 میں برطانوی شہریت حاصل کی تھی جس کے بعد وہ انگلینڈ کے ڈومیسٹک سیزن بشمول ‘دی ہنڈریڈ’ اور ‘ٹی 20 بلاسٹ’ میں ایک مقامی کھلاڑی کے طور پر کھیل رہے ہیں۔ کرکٹ شائقین کا خیال تھا کہ وہ سابق پاکستانی آل راؤنڈر اظہر محمود کے نقشِ قدم پر چلیں گے جنہوں نے برطانوی پاسپورٹ کی بنیاد پر کنگز الیون پنجاب اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کی تھی۔
سنہ 2008 کے افتتاحی سیزن کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل کھیلنے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔ اگرچہ محمد عامر نے مستقبل میں کسی موقع پر آئی پی ایل کھیلنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا لیکن انہوں نے یہ صاف کر دیا ہے کہ گوا میں ہونے والی 2027 کی آئندہ نیلامی میں شامل ہونے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔






