ملک میں آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور گندم کی سپلائی مستحکم رکھنے کے لیے حکومتِ پاکستان کے اقدامات کے تحت 51 ہزار میٹرک ٹن سے زائد امپورٹڈ گندم کا پہلا بحری جہاز بدھ کے روز کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے مطابق جیوگووا ایم نامی اس کارگو جہاز کو برتھ نمبر سولہ اور سترہ الاٹ کیے گئے جہاں گندم کو اتارنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔
دوسرے جہاز کی آمد اور مجموعی درآمدی کوٹہ
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعلامیے کے مطابق گندم لے کر آنے والا دوسرا بحری جہاز گریٹ رینبو تین نومبر2026 کو کراچی پہنچے گا۔ ان دونوں جہازوں کے ذریعے مجموعی طور پر ایک لاکھ دس ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم پاکستان پہنچے گی۔ اس گندم کی ہینڈلنگ کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ پر کی جا رہی ہے تاکہ ملک میں ضروری اشیاء کی ترسیل کو بلا تاخیر اور انتہائی مؤثر طریقے سے ممکن بنایا جا سکے۔
حکومتی ذخائر اور آٹے کی قیمتوں پر اثرات
وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے واضح کیا ہے کہ ملک میں رواں برس گندم کی کوئی قلت نہیں ہوگی اور حکومت ساٹھ لاکھ ٹن تک کے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے گی۔ انہوں نے آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امپورٹڈ گندم کی مارکیٹ میں آمد سے قیمتیں جلد معمول پر آ جائیں گی۔ مزید برآں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ہونے والے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں حکام کو مارکیٹ کی سخت نگرانی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔






