ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیو ایشن کراچی نے چین اور دیگر ممالک سے منگوائے جانے والے قلم، مارکر اور اسٹیشنری کے خام مال کی کسٹمز ویلیوز پر نظرثانی کرتے ہوئے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ وفاقی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ویلیو ایشن رولنگ نمبر 2117 آف 2026 کے بعد مارکیٹ میں امپورٹڈ اسٹیشنری کی قیمتیں مزید مہنگی ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
نو سال پرانے کسٹمز ٹیرف اور ویلیو ایشن پر نظرثانی
محکمے کے مطابق اسٹیشنری آئٹمز کی سابقہ کسٹمز ویلیو ایشن تقریباً نو سال پرانی تھی جبکہ اس عرصے کے دوران ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں خام مال کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 25 کے تحت کیے گئے اس فیصلے کا مقصد ٹیکس چوری کو روکنا اور سرکاری ریونیو کا تحفظ کرنا ہے۔ اس نئے نوٹیفکیشن میں بال پوائنٹ کی روشنائی، نب، کلپس، پلاسٹک کمپوننٹس اور فاؤنٹین پین کے انک کارٹریجز شامل ہیں۔
مقامی مینوفیکچررز کے تحفظات اور نئی کلاسیفیکیشن
سماعت کے دوران مقامی مینوفیکچررز نے فاؤنٹین پین کارٹریجز کی غلط کلاسیفیکیشن کی نشاندہی کی اور بال پوائنٹ و جیل پین کے پلاسٹک پارٹس کو بھی اس دائرہ کار میں شامل کرنے کی درخواست کی۔ کسٹمز حکام نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درآمدی ریکارڈ اور انوائسز کا جائزہ لینے کے بعد قانونی طریقہ کار کے تحت نئی قیمتوں کا تعین کیا ہے جس کا براہِ راست اثر اب تیار درآمدی اسٹیشنری کی قیمت پر پڑے گا۔






