وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم انتظامی کارروائی کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کو کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق انہیں نہ صرف صدارت سے الگ کیا گیا ہے بلکہ کمیٹی کی بنیادی رکنیت سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ ستمبر میں قیصر احمد شیخ نے گلہ کیا تھا کہ وزیراعظم ملاقات کے لیے وقت نہیں دے رہے۔
کابینہ کمیٹی کی نئی تنظیمِ نو اور قیادت
حکومتی نوٹیفکیشن کے تحت اب وفاقی وزیر تجارت کو اس اہم ترین اصلاحاتی کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان شریک چیئرمین کے فرائض انجام دیں گے۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ڈویژن اس کمیٹی کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گا۔
آسان کاروباری ماحول اور ریگولیٹری قوانین کا جائزہ
اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو ملک میں کاروباری ماحول کو سازگار بنانے اور پیچیدہ قوانین کو آسان بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے لائسنسنگ شرائط اور پرانے قوانین کو ختم یا تبدیل کرنے کی تجویز کا تفصیلی جائزہ لے گی اور حتمی منظوری کے لیے اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو ارسال کرے گی۔






