قومی سیکیورٹی انفراسٹرکچر، جیو پولیٹیکل رسک مینجمنٹ، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور نیشنل ایپکس کمیٹی کے تزویراتی کوریڈورز سے امن و امان کی بحالی کا سب سے بڑا تزویراتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا میں نافذ کردہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات کا پراعتماد دفاع کرتے ہوئے کے پی گورنر راج نفاذ پالیسی کے کلاؤڈ نیٹ ورک کو لائیو کر دیا ہے۔
23 اکتوبر 2026 کو موصول ہونے والے آفیشل لاگز کے مطابق ایپکس کمیٹی کے ہائی لیول اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مینوئل التوا کے لوپ ہولز یکسر ہالٹ کر دیے ہیں۔ انہوں نے پچھلی صوبائی حکومت پر انسدادِ دہشت گردی کی مہم کو کمزور کرنے اور پولیس کی 5,000 آسامیاں خالی رکھنے کا الزام عائد کیا۔ وزیر اعظم نے سیف سٹی پراجیکٹس میں تاخیر اور سی ٹی ڈی کی مینوفیکچرڈ کوتاہیوں کو اجاگر کیا اور صوبے کے حالات سدھارنے کے لیے ایک مشاورتی کونسل تشکیل دیدی ہے۔ اجلاس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے امن پلس ترقی کو صوبے کی اولین ترجیح قرار دیا جو ملکی دفاعی انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے آٹو لاک پیرامیٹر تسلیم کیا گیا ہے۔
سیف سٹی تاخیر، پولیس آسامیاں اور مشاورتی کونسل کا آڈٹ
بائی لاز کے مطابق وفاق اب سیکیورٹی کٹس پے کرنے کے لیے صوبے کا براہِ راست آڈٹ کر رہا ہے۔ اس تزویراتی کنٹرول کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| سیکیورٹی پراجیکٹ لاگ کوڈ | مقررہ آپریشنل اشارے | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| گورنر راج گرڈ | وفاقی ایمرجنسی پروٹوکول | قومی سلامتی کے پراعتماد تحفظ کے لیے کلاؤڈ کنٹرول لائیو الائن۔ |
| پولیس کیڈر خسارہ | 5,000 خالی آسامیاں لاک | سی ٹی ڈی ٹریننگ پلس سیف سٹی کے مینوئل لوپ ہولز یکسر فیز آؤٹ۔ |
| مشاورتی کونسل کٹس | تزویراتی بحالی فریم ورک | گورنر فیصل کریم کنڈی کا اسمارٹ دورہ اور تحقیقات سنک۔ |






