واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات میں ایک بار پھر بڑی تیزی آ گئی ہے۔ حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کا چوتھا دور منعقد ہوا جس میں دونوں ممالک نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسٹریٹجک مذاکرات کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم تجارتی فریم ورک پر بھی بات چیت جاری ہے۔
انسدادِ دہشت گردی مذاکرات اور علاقائی سلامتی کے چیلنجز
واشنگٹن میں ہونے والے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی قیادت امریکہ کے انسدادِ دہشت گردی کے کوآرڈینیٹر سفیر گریگوری لوجیرفو اور پاکستانی وزارتِ خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں وفود نے موجودہ سیکیورٹی خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
مذاکرات کے دوران بارڈر سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں خاص طور پر درج ذیل تنظیموں کو علاقائی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا:
داعش خراسان (ISIS-K)
القاعدہ
تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)
بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب جولائی 2026 کا مہینہ پاکستان کے لیے حالیہ برسوں کا سب سے مہلک مہینہ ثابت ہوا جس میں دہشت گردانہ حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز کے نتیجے میں 112 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 205 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی سردمہری کے بعد یہ بات چیت پاک امریکہ تعلقات کو دوبارہ ایک مثبت اور پائیدار رخ دینے کی اہم کوشش ہے۔
Pakistan and the U.S. convened the Fourth Round of Counterterrorism Dialogue in Washington D.C. The two sides held extensive deliberations on the regional and global terrorist threat and pledged to deepen counterterrorism collaboration both bilaterally and at multilateral fora. pic.twitter.com/h6Vvxr5gNm
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
معاشی تعاون: باہمی تجارتی فریم ورک پر اہم پیش رفت
جہاں ایک طرف سیکیورٹی وفود واشنگٹن میں مصروف تھے وہیں دوسری طرف پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد سے امریکی تجارتی نمائندے (USTR) سفیر جیمیسن گریر کے ساتھ ایک اہم ورچوئل میٹنگ کی۔ اس میٹنگ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تجارتی اور معاشی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
اس ورچوئل اجلاس سے تقریباً تین ہفتے قبل وزیرِ خزانہ نے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے امپورٹ-ایکسپورٹ بینک (Exim) یو ایس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC)، اور آئی ایم ایف کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ حالیہ مذاکرات میں دونوں ممالک نے مینوفیکچرنگ، ٹیرف اور مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے باہمی تجارتی فریم ورک کو جلد از جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تجارتی شراکت داری پاکستان کی برآمدات پر مبنی معاشی حکمت عملی کے لیے انتہائی اہم ہے جو ملکی معیشت کو استحکام دے گی اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
لیبر اصلاحات اور امریکی درآمدی ٹیرف کا معاملہ
اس معاشی گفت و شنید میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی لیبر اور ریگولیٹری اصلاحات کو بھی سراہا گیا جن میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پچھلے مہینے امریکہ نے جبری مشقت کے قوانین کی تعمیل نہ کرنے پر 60 ممالک پر نئے امپورٹ ٹیرف عائد کیے تھے۔
پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں نچلے 10 فیصد ٹیرف زون میں رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان یا تو ان قوانین کو اپنا چکا ہے یا باہمی تجارتی معاہدوں کے تحت انہیں مکمل طور پر لاگو کرنے کا پابند ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے ذریعے بقیہ مسائل کو بھی جلد حل کر لیا جائے گا۔
پاک امریکہ تعلقات کی یہ نئی جہت واضح کرتی ہے کہ دونوں ممالک اب صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلیوں اور علاقائی استحکام جیسے کثیر الجہتی شعبوں میں طویل مدتی شراکت داری قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔






