بین الاقوامی سفارتی انفراسٹرکچر، پبلک سروس ڈیلیوری، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور پاک عمان خارجہ امور کے تزویراتی کوریڈورز سے بارڈر مینجمنٹ کا سب سے بڑا اور پراعتماد سفارتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان اور سلطنتِ عمان نے باقاعدہ طور پر ملی جلی سفارتی الائنمنٹ کے تحت مخصوص پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
15 اکتوبر 2026 کو وزارتِ خارجہ کے ڈیش بورڈ پر لائیو اپ لوڈ ہونے والے دستاویزی لاگز کے مطابق اس تزویراتی ویزا فری گرڈ کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاکستان عمان بغیر ویزا انٹری معاہدہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ یہ پراعتماد معاہدہ ڈپلومیٹک اسپیشل آفیشل اور سروس پاسپورٹ رکھنے والے حکام کو کور کرے گا۔ تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ اسمارٹ چھوٹ عام پاکستانی پاسپورٹ یعنی سیاحوں پر لاگو نہیں ہوگی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے 8ویں سیشن کے دوران اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے تاکہ مینوئل بارڈر التوا کو یکسر بلاک کیا جا سکے۔
6 دستاویزی پروٹوکولز، آئی ٹی الائنمنٹ اور علاقائی مانیٹرنگ کا آڈٹ
وزیراعظم شہباز شریف کی لائیو موجودگی میں دونوں ممالک کے مابین مجموعی طور پر 6 پراعتماد دستاویزی کٹس کا تبادلہ کیا گیا۔ ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام، میڈیا کوآپریشن اور آرکائیوز مینجمنٹ کے پریمیم سوفٹ وئیر ایم او یوز شامل ہیں جنہیں ملکی سفارتی انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
پاک عمان سفارتی معاہدوں اور پاسپورٹ کیٹیگریز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| سفارتی پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ پاسپورٹ انڈیکس | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| ویزہ فری انٹری ماڈل | سفارتی، آفیشل، اسپیشل پلس سروس | عام پاسپورٹ ہولڈرز اور ٹورسٹ ویزا اس فریم ورک سے یکسر فیز آؤٹ۔ |
| تزویراتی معاہدہ حجم | 06 آفیشل دستاویزات الائن | آئی ٹی، ٹیلی کام اور میڈیا پروٹوکولز پر آٹو لاک نافذ۔ |
| علاقائی خارجہ پالیسی | میری ٹائم نیبر نیٹ ورک | پیپر لیس موڈ میں خلیجی سیکیورٹی اور سفارت کاری کا سائنسی آڈٹ۔ |






