پاکستان کے ڈیجیٹل منظر نامے میں ایک تاریخی انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک باقاعدہ طور پر ففتھ جنریشن (5G) انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھ چکا ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے کامیاب اسپیکٹرم نیلامی کے بعد ملک کے بڑے شہروں میں ابتدائی سروسز فعال کر دی ہیں۔ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے آنے سے انٹرنیٹ کی رفتار میں 10 گنا تک اضافہ متوقع ہے جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس اور آئی ٹی سیکٹر کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی۔
اس آرٹیکل میں ہم پاکستان میں 5G کے رول آؤٹ کی موجودہ صورتحال پی ٹی اے کے فعال کردہ ٹاورز کی تعداد اور مستقبل کی ٹائم لائن کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
پی ٹی اے کی حالیہ رپورٹ: ملک بھر میں فعال 5G ٹاورز کی تفصیلات
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کو دی گئی حالیہ بریفنگ کے مطابق، PTA نے تصدیق کی ہے کہ پہلے مرحلے کے تحت پاکستان میں 5G کی سروسز کا آغاز موجودہ انفراسٹرکچر کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کل فعال سائٹس: اس وقت پاکستان کے 22 مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 449 فعال 5G ٹاور سائٹس کام کر رہی ہیں۔
انفراسٹرکچر کا طریقہ کار: ٹیلی کام آپریٹرز (Jazz، Zong، اور Ufone) نے فی الحال نئے ٹاورز لگانے کے بجائے اپنے موجودہ نیٹ ورک اور ٹاورز کو اپ گریڈ کر کے 5G سگنلز کی فراہمی شروع کی ہے۔
شہروں کی صورتحال: سب سے زیادہ فعال سائٹس معاشی حب کراچی میں ہیں، جہاں 50 سائٹس فعال کی گئی ہیں جبکہ حیدرآباد میں فی الحال صرف 3 سائٹس کام کر رہی ہیں۔ حکومت نے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کراچی جیسے بڑے شہروں میں ٹاورز کی تعداد کو ہنگامی بنیادوں پر بڑھائیں۔
پاکستان میں 5G کا کمرشل رول آؤٹ اور مکمل ٹائم لائن
مارچ 2026 میں ہونے والی تاریخی اسپیکٹرم نیلامی جس سے حکومت کو تقریباً 510 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی کے بعد رول آؤٹ پلان کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پی ٹی اے کی طے کردہ ٹائم لائن درج ذیل ہے:
فیز 1: موجودہ نیٹ ورک پر آغاز (جاری ہے)
اسپیکٹرم کے حصول کے فوراً بعد کمپنیوں نے ملک کے 22 بڑے شہروں (بشمول اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ) میں ابتدائی سروسز لانچ کر دیں۔ اس فیز میں صارفین کو بغیر کسی نئے انفراسٹرکچر کے 4G ٹاورز کے ذریعے ہی 5G کی آزمائشی رفتار فراہم کی جا رہی ہے۔
فیز 2: مخصوص 5G انفراسٹرکچر کی تنصیب (اگلے 6 سے 8 ماہ)
پی ٹی اے کے مطابق آئندہ 6 سے 8 ماہ کے اندر ٹیلی کام آپریٹرز ملک میں باقاعدہ طور پر خالص 5G انفراسٹرکچر اور آلات نصب کرنا شروع کر دیں گے۔ اس دوران کمپنیوں نے سالانہ 3,000 نئی نیٹ ورک سائٹس شامل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ فائبر آپٹک نیٹ ورک (Fiber-to-the-Site) کو بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد تک کیا جائے گا تاکہ تیز رفتار ڈیٹا ٹریفک کو سنبھالا جا سکے۔
فیز 3: مکمل ملک گیر نیٹ ورک (طویل مدتی ہدف)
ٹیکنالوجی کے وسیع پھیلاؤ کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں کو بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو پورے پاکستان میں 5G کا مکمل نیٹ ورک بچھانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں تاہم کمرشل بنیادوں پر بڑے شہروں کے تمام اہم کاروباری مراکز اگلے چند سالوں میں مکمل کور ہو جائیں گے۔
درپیش چیلنجز اور نیٹ ورک کی متوقع رفتار
جہاں پاکستان میں 5G کا سفر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے وہیں پی ٹی اے نے چند بڑے چیلنجز کی نشان دہی بھی کی ہے:
بجلی کا بحران اور لوڈ شیڈنگ: ٹیلی کام ٹاورز کو مسلسل آن رکھنے کے لیے بجلی کی عدم فراہمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس حل کے لیے وزارتِ آئی ٹی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور نیپرا (NEPRA) کے ساتھ مل کر ٹیلی کام سائٹس کے لیے خصوصی ایکسپریس فیڈرز لگانے پر کام کر رہی ہے۔
انٹرنیٹ اسپیڈ میں بہتری: موجودہ انفراسٹرکچر اپ گریڈ ہونے سے اوسط 4G اسپیڈ 4 Mbps سے بڑھ کر 20 Mbps تک پہنچنے کی امید ہے جبکہ ابتدائی 5G سروسز پر صارفین کو 50 Mbps سے لے کر 1 Gbps سے زائد تک کی تیز ترین ڈاؤن لوڈنگ اسپیڈز مل سکیں گی۔






