ملکی توانائی کے انفراسٹرکچر، پبلک سروس ڈیلیوری، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور اوگرا پلس سوئی گیس کمپنیوں کے تزویراتی کوریڈورز سے صارفین کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اور ہولناک فیسکل بریک تھاؤ سامنے آیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے ایک سال یا اس سے زائد عرصے سے منقطع سوئی گیس کنکشنز کو دوبارہ چلانے کے لیے انتہائی سخت نئی پالیسی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے سستی گیس کی رعایتی سہولت یکسر ختم کر دی ہے۔
15 اکتوبر 2026 کو انرجی پورٹلز پر لائیو اپ لوڈ ہونے والے آفیشل مانیٹری لاگز کے مطابق اس ریگولیٹری ایڈجسٹمنٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر سوئی گیس کنکشن بحالی سخت شرائط کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر سرگرم ہو چکا ہے۔ نئی شرائط کے تحت جو گھریلو یا کمرشل صارفین طویل عرصے بعد اپنا گیس میٹر دوبارہ بحال کرائیں گے ان پر روایتی سستی گیس کے بجائے مہنگی امپورٹڈ ایل این جی کی قیمتیں لاگو ہوں گی۔ صارفین کو مینوئل ری کنکشن فیس تو پے کرنا ہی ہوگی لیکن ان کی ماہانہ بلنگ امپورٹڈ کارگو ریٹس پر آٹو لاک کی جائے گی تاکہ مینوئل نقصانات کے تمام لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
ایل این جی ٹیرف مائپنگ اور گھریلو بجٹ پر اضافی فیسکل دباؤ کا آڈٹ
توانائی کے مینیجرز کے مطابق اس اسمارٹ اسکرٹنی کا مقصد گیس چوری کو روکنا اور طویل عرصے تک ڈیفالٹ رہنے والے کھاتوں کا آڈٹ کرنا ہے۔ اس فیصلے سے سردیوں کے موسم میں مینوفیکچرڈ گیس شارٹیج کے دوران عام صارفین کے فیسکل حجم پر غیر معمولی مالیاتی بوجھ پڑے گا۔
گیس کنکشنز کی بحالی کے نئے آپریشنل پیرامیٹرز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| انرجی پراجیکٹ لاگ کوڈ | منقطع دورانیہ تھریش ہولڈ | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| رعایتی گیس فیز آؤٹ | 01 سال یا اس سے زائد | سستی اور سبسڈائزڈ گیس کی سہولت مستقل طور پر بلاک۔ |
| نیا بلنگ انڈیکس ماڈل | ایل این جی ٹیرف ریٹ | گھریلو صارفین سمیت تمام کیٹیگریز پر آٹو لاک نافذ۔ |
| بحالی کا باقاعدہ رول | ری کنکشن فیس کی ادائیگی | پیپر لیس موڈ میں لائیو کلیئرنس چالان ڈیٹا بیس سے سنک۔ |






