پاکستان کے فنانشل ریگولیٹری انفراسٹرکچر، پبلک فنانس مینجمنٹ، مانیٹری فریم ورک اور مائیکرو فنانس سیکٹر کے تزویراتی کوریڈورز سے ملکی معیشت کا تک کا سب سے بڑا اور پراعتماد مالیاتی سنگِ میل سامنے آیا ہے۔ پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک نے کراچی میں منعقدہ دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس کے اختتام پر فنانشل انکلوژن کو ٹھوس معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کا تاریخی فریم ورک آٹو لاک کر دیا ہے۔
10 اکتوبر 2026 کو پورٹل پر لائیو سنک ہونے والے دستاویزی لاگز کے مطابق اس میگا فیسکل پراجیکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس کراچی کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والے پراجیکٹ پائیدار اور اقوامِ متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے کے اشتراک سے منعقدہ اس دو روزہ کانفرنس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ڈیجیٹل کریڈٹ ٹولز، متبادل ڈیٹا اور نان کولیٹرل کیش فلو بیسڈ فنانسنگ بڑھانے پر زور دیا تاکہ مینوئل دفتری دباؤ کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
4.2 ارب روپے کا پیڈار فنڈ اور خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ کا آڈٹ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور پی ایم این چیئرمین عامر خان کی موجودگی میں پیڈار انوویشن لیبز کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس پراجیکٹ کا سب سے بڑا اسمارٹ آؤٹ پٹ نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹ کے فنانسنگ فیسلٹی فنڈ کو 200 ملین سے بڑھا کر 4.2 ارب روپے کرنا ہے جس کی 50 فیصد فیسکل لکویڈیٹی صرف خواتین کے لیے آٹو لاک کی گئی ہے۔
کامیاب مائیکروفنانس بینکوں اور فنڈز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق محفوظ ہے:
| فیسکل و مائیکروفنانس ایوارڈ لاگ | حاصل کردہ آفیشل پوزیشن انڈیکس | ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| بہترین مائیکروفنانس بینک | ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک | وفاقی ریگولیٹری مینوئل اور کسٹمر ان پٹ کے تحت وائٹ لسٹ۔ |
| بہترین نان بینکنگ مائیکرو کمپنی | این آر ایس پی پینل لاگ | پی ایم آئی سی کے ساتھ 1 ارب روپے کا گرین انرجی فنڈ لاک۔ |
| خصوصی صدارتی ہیومن ایوارڈ | ڈاکٹر محمد امجد ثاقب (اخوت) | بلا سود ماڈل پے کرنے پر سائنسی اعتراف۔ |
اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ اور کاشف فاؤنڈیشن کی ایم ڈی روشانہ ظفر نے موسمیاتی مدافعت کو مائیکرو لونز کا لازمی حصہ بنانے کی توثیق کی۔






