پاکستان کے وفاقی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، شہری ترقی، پبلک سروس ڈیلیوری اور قومی سلامتی کے تزویراتی کوریڈورز سے آفات سماوی سے نمٹنے کے حوالے سے ایک تزویراتی معاشی و سماجی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام اداروں، برادریوں اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ آفات سے بچاؤ اور مدافعت کو ایک مشترکہ قومی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کریں۔
8 اکتوبر 2026 کو ملک بھر میں منعقدہ تقاریب اور آفیشل میڈیا لاگز کے مطابق اس قومی بیداری مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر قومی یوم مدافعت ڈیزاسٹر مینجمنٹ
کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ یہ دن ہر سال 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد اور ڈیزاسٹر پریپریشن کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے الگ الگ پیغامات میں واضح کیا کہ اب ہمیں حادثات کے بعد مینوئل ردِعمل دینے کے بجائے علم، قابلِ بھروسہ ڈیٹا لاگز اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کے اسمارٹ استعمال کے ذریعے خطرات کا پہلے سے اندازہ لگانے کے اسمارٹ پروٹوکول پر منتقل ہونا ہوگا تاکہ کسی بھی اینٹی چیٹنگ سیکیورٹی شارٹ فال کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
مانیٹرنگ اور جدید ڈیزاسٹر ری مڈلنگ کا آڈٹ
حکومت کے انرجی اور ریسکیو مینیجرز کے مطابق این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے کلاؤڈ سسٹمز کو جیو لوکیشن نقشوں کے ساتھ سنک کیا جا رہا ہے تاکہ پیپر لیس موڈ میں زلزلوں اور سیلاب کی لائیو اسکرٹنی کی جا سکے۔
صوبائی و وفاقی ایمرجنسی نیٹ ورک کی آپریشنل لاجسٹکس کا تفصیلی خاکہ درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| ڈیزاسٹر مینیجمنٹ لاگ کوڈ | تزویراتی نفاذ کا بنیادی ڈھانچہ | ریگولیٹری و مانیٹرنگ ہدف |
| 8 اکتوبر 2005 زلزلہ | ملکی تاریخ کا ہولناک ترین مینوئل سانحہ | متاثرین کی یاد اور پبلک ویلفیئر عزم کا اعادہ۔ |
| جدید ٹیکنالوجیز گرڈ | علم اور سوفٹ وئیر آڈٹ کٹس | خطرات کا پہلے سے ڈیجیٹل ٹریکنگ ان پٹ پے کرنا۔ |
| مشترکہ قومی ذمہ داری | وفاقی محکمے، برادریاں اور شہری | پیپر لیس موڈ میں آفات کے مینوئل لوپ ہولز بلاک۔ |
رہنماؤں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تعمیراتی انڈسٹری میں اینٹی زلزلہ رولز پر 100 فیصد عملدرآمد لاک کریں تاکہ ملکی ہیومن انڈیکس اور کریڈٹ ریٹنگ کو بین الاقوامی دنیا کے سامنے محفوظ رکھا جا سکے۔






