پاکستان کے کارپوریٹ فنانشل انفراسٹرکچر، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ، پبلک فنانس مینجمنٹ، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تزویراتی کوریڈورز سے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے حوالے سے ایک انتہائی ہنگامی اور بڑا انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت 5 پریمیم صنعتی شعبوں میں الیکٹرانک پروڈکشن مانیٹرنگ آلات اور لائیو کیمرے نصب کرنے کے لیے 4 بڑے وینڈرز کو باقاعدہ لائسنس جاری کر دیے ہیں۔
8 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، اس ہائی ٹیک سیکیورٹی مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر ایف بی آر الیکٹرانک پروڈکشن مانیٹرنگ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ بورڈ نے ابسیڈین ٹیکنالوجیز، ٹول لنک پاکستان، آئی ایس ایس ایم لیبلنگ سلوشنز، اور اتھینٹک نامی کمپنیوں کو آلات کی تنصیب اور مینوفیکچرنگ لاگز کی چیکنگ کے لیے آٹو لاک کیا ہے۔ یہ اسمارٹ موو پیکڈ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، خوردنی تیل و گھی، اور چمڑے کی صنعتوں پر لاگو ہوگا تاکہ ٹیکس چوری کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
آئی پی کیمرے، این وی آر ریکارڈنگ اور آڈٹ فریم ورک
تکنیکی مینوئل کے مطابق ان فلیگ شپ کارخانوں میں ہائی ٹیک انٹرنیٹ پروٹوکول کیمرے اور نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈرز نصب کیے جائیں گے جو فیکٹری لیول پر پروڈکشن پروسیس کی مسلسل لائیو اسکرٹنی پے کریں گے۔
مانیٹرنگ کٹس اور وینڈر رولز کا تفصیلی سائنسی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق محفوظ ہے:
| ریگولیٹری مانیٹرنگ لاگ | الاٹ کردہ پروٹوکول معیار | ایف بی آر سیکیورٹی رول |
| ویڈیو اسٹوریج کیپیسٹی | کم از کم 2 ماہ کی ریکارڈنگ | ڈیٹا بیس پر فوٹیج کا 100 فیصد تحفظ لازمی۔ |
| لائسنس کی میعاد | 03 سال کے لیے آٹو لاک | سب کانٹریکٹ یا منتقلی یکسر ممنوع۔ |
| فوٹیج ملکیت انڈیکس | ایف بی آر کی خالص ذاتی پراپرٹی | ڈیٹا شیئرنگ یا چیٹنگ پر سخت قانونی کارروائی۔ |
وینڈرز کو ہر سائٹ پر آلات کی جانچ کر کے ایف بی آر کو لائیو فیڈز کا کلاؤڈ کنکشن فراہم کرنا ہوگا۔ یہ 100 فیصد پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ آپریشن ملکی فیسکل لکویڈیٹی برقرار رکھنے اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج بہتر کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔






