پاکستان کے نیشنل سیکیورٹی انفراسٹرکچر، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ، پبلک پالیسی مینجمنٹ، لا انفورسمنٹ لاجسٹکس اور میکرو جیو پولیٹیکل کوریڈورز سے ملکی بقا اور داخلی سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی ہنگامی، دور رس اور اب تک کا سب سے بڑا تزویراتی تعطل سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت باقاعدہ حالتِ جنگ میں ہے اور انہوں نے صوبائی مینیجرز کو سخت وارننگ جاری کی ہے کہ ملکی دفاع اور امن و امان کے حساس معاملات کو سیاسی مفادات کے لیے مینوئل طریقے سے پولیٹیسائز کرنا فوری طور پر بند کیا جائے۔
5 اکتوبر 2026 کو وزارتِ داخلہ کے مرکزی کلاؤڈ مانیٹرنگ ڈیش بورڈ پر موصول ہونے والے آفیشل دستاویزی لاگز کے مطابق اس ہائی پروفائل جیو پولیٹیکل کرائسز کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر محسن نقوی قومی سلامتی وارننگ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے انکشاف کیا کہ کے پی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے ایک جامع تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر فائنل مینوفیکچرڈ پلان جمع کرانے پر مکمل ہینڈ شیک کیا تھا لیکن گزشتہ رات مذاکرات کے آخری فیز کے دوران صوبائی مینیجرز اپنے تمام وعدوں سے یکسر مکر گئے تزویراتی پریس بریفنگ کا بنیادی ہدف وفاقی دارالحکومت اور صوبوں کے مابین اینٹی ٹیررازم کوآرڈینیشن کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنا اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور ریاستی رٹ کو مستقل طور پر برقرار رکھنا ہے۔
72 گھنٹوں کا ڈیڈ لائن لاگ اور مجوزہ معاہدے کے 10 بنیادی کلیمز
وفاقی مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر لائیو سنک کی گئی آفیشل گائیڈ لائنز کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کا مقصد کے پی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا اور بارڈر سیکیورٹی نیٹ ورکس کو اپ گریڈ کرنا تھا۔ صوبائی حکومت نے کونسل رولز کے تحت جن شرائط پر پہلے حامی بھری تھی ان میں نومبر میں آنے والے پولیس ایکٹ 2026 پر سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر نظرِ ثانی کرنا اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپس کی سوفٹ وئیر بیسڈ غیر مشروط مذمت آٹو لاک کرنا شامل تھا تاکہ وہ محفوظ پناہ گاہیں مینوفیکچر نہ کر سکیں۔
مجوزہ معاہدیاتی کٹس اور فیسکل کلیمز کا بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق مکمل طور پر سنک ہے:
| سیکیورٹی آپریشنل پیرامیٹر لاگ | تفویض کردہ وفاقی و صوبائی ذمہ داری | ریگولیٹری و انسدادِ دہشت گردی پروٹوکول |
| افغان مہاجرین کی واپسی | قومی پالیسی کی مکمل حمایت اور افغان کیمپس کا خاتمہ | نادرا اور جیو لوکیشن کلاؤڈ اسکیننگ |
| کاؤنٹر ٹیررازم فنڈنگ | پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے بھاری فنانشل بجٹ کی فراہمی | کیش لیس موڈ میں فیسکل لاگز پے کرنا۔ |
| خارجہ تعلقات کلوژر | عبوری افغان حکومت کے ساتھ کوئی آزاد رابطہ نہ رکھنا | وفاقی وزارتِ خارجہ کے اسمارٹ الائنمنٹ رولز |
| سابقہ فاٹا و ضم اضلاع | پاک فوج کے ساتھ مربوط کوآرڈینیشن کٹس کا نفاذ | نیسکام اور لائیو ملٹری کمانڈ سنکنگ رول |
نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ اور صوبائی نیشنل سیکیورٹی شارٹ فال
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کے پی حکومت کا آخری لمحات میں اسکروٹنی معاہدے سے پیچھے ہٹنا دہشت گردی کے خلاف جاری ملکی آپریشنز کے کیش بلیڈ کو بڑھا سکتا ہے۔ وفاق کا موقف ہے کہ جب ایک صوبہ عملاً جنگ لڑ رہا ہو تو وہاں سیکیورٹی فیصلوں کو پولیٹیکل ایجنڈے کے تحت عارضی التوا میں ڈالنا ملکی سلامتی کے خلاف سب سے بڑا لوپ ہول بن جاتا ہے۔
حکومت نے اب نیشنل ایکشن پلان کے تحت ضم شدہ اضلاع میں اینٹی چیٹنگ اور اینٹی ٹیررازم مانیٹرنگ کو آٹو پروٹیکٹ کرنے کے لیے ریموٹ روڈ میپ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معصوم شہریوں کی لائف سیونگز اور پبلک سیفٹی انڈیکس کو بہتر بنایا جا سکے جو ملکی ہیومن انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔






