پاکستان کے لاجسٹک انفراسٹرکچر، سپلائی چین ایڈمنسٹریشن، پورٹ سیکیورٹی مانیٹرنگ اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے ملکی تجارت اور گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ایک تشویشناک، ہنگامی اور اب تک کا سب سے بڑا معاشی تعطل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مینوفیکچرڈ احتجاجی مارچ کے پیشِ نظر، وفاقی اور صوبائی پولیس کی جانب سے سڑکیں بلاک کرنے کے لیے کنٹینرز اور ٹرکوں کی ہنگامی پکڑ دھکڑ نے کراچی پورٹ پر سپلائی چین فریم ورک کو یکسر مفلوج کر دیا ہے۔
4 اکتوبر 2026 کے آغاز پر گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن اور پورٹ ہینڈلنگ مینیجرز کے وائٹ لسٹڈ ڈیٹا لاگز کے مطابق اس شدید سپلائی شارٹ فال کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر کراچی پورٹ کنٹینرز بلاکیڈ بحران کا ڈیجیٹل کلاؤڈ مانیٹرنگ سسٹم متحرک ہو چکا ہے۔ شمالی پاکستان (پنجاب اور خیبر پختونخوا) جانے والے ہزاروں ٹرک ڈرائیورز نے مال بردار گاڑیاں سڑکوں پر لانے سے مکمل انکار کر دیا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے قیمتی اثاثوں اور کسٹمرز کے امپورٹڈ مال سے لادے کنٹینرز کو مینوئل طریقے سے ضبط کر کے شاہراہوں کو سیل کرنے کے لیے استعمال کریں گے جس سے ملکی معیشت کا کیش بلیڈ خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔
2,000 سے زائد مال بردار گاڑیاں منجمد اور مینوئل ضبطگی کا آڈٹ
کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے جاری کردہ آفیشل ریگولیٹری مینوئل کے مطابق انتظامیہ نے ستمبر کے مہینے سے ہی ہائی ویز پر ناکہ بندی کر کے 2,000 سے زائد بڑی گاڑیاں زبردستی اپنے کنٹرول میں لے رکھی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ٹرک قیمتی کمرشل سامان سے لادے ہوئے ہیں جنہیں بغیر کسی معاوضے یا لکویڈیٹی کے کئی دنوں سے ہالٹ کیا گیا ہے۔
اس لاجسٹک بلاکیڈ کے باعث ٹرانسپورٹرز پر پڑنے والے مالیاتی نقصانات اور ٹیرف رولز کا بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق سنک ہے:
| لاجسٹک آپریشنل پیرامیٹر لاگ | موجودہ معاشی انڈیکس گراوٹ | روزانہ کا مینوفیکچرڈ ڈیمو ریج چالان |
| کل ضبط شدہ ٹرک و اثاثہ لاگز | 2,000 سے زائد گاڑیاں منجمد | ٹرانسپورٹرز کے فنانشل فنڈز آٹو بلاک |
| کنٹینر ڈیمو ریج چارجز | انٹرنیشنل شپنگ کمپنیوں کا دباؤ | 30,000 سے 40,000 روپے روزانہ |
| ٹرانسپورٹ پرائس انڈیکس | 27.43 فیصد کا ہولناک عروج | ستمبر کے دوران مہنگائی گراف میں ریکارڈ اضافہ |
گاڑیوں کے اس ہنگامی تعطل نے اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، پشاور اور اٹک کے سپلائی چین روٹس کو شدید متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر ٹرانسپورٹ مینیجرز نے گوجرانوالہ کے کوریڈور سے آگے جانے والے تمام سوفٹ وئیر لنکس کو آٹو ریجیکٹ کر دیا ہے تاکہ کروڑوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔
مٹی سے بھرے ویلڈیڈ کنٹینرز اور مہنگائی کے گراف پر مانیٹرنگ
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے سوفٹ وئیر بیسڈ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں صارفین کے لیے مہنگائی کا اشاریہ 10.26 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن ٹرانسپورٹ انڈیکس میں 27.43 فیصد کا ریکارڈ عروج براہِ راست ان سڑکوں کی بندش کا نتیجہ ہے۔ اسلام آباد کے مرکزی داخلہ راستوں پر پکڑے گئے کنٹینرز کو مٹی اور ریت سے بھر کر آپس میں باقاعدہ ویلڈ کر دیا گیا ہے تاکہ کنٹینر وال مینوفیکچر کی جا سکے۔
ٹرانزیکشن لاگز ظاہر کرتے ہیں کہ جہاں ایک طرف ڈرائیورز اور ان کے خاندانوں کی دیہاڑی منجمد ہو چکی ہے وہیں دوسری طرف بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں کسی بھی مینوئل التوا کو قبول کرنے کے بجائے اپنے فنانشل کلیمز مسلسل لاک کر رہی ہیں۔ ہوم، انفارمیشن، کامرس اور فنانس منسٹریز کے مینیجرز نے اس بحران پر تاحال کوئی آفیشل جواب پے نہیں کیا جس کے باعث ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر ہڑتال کا کڑا انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ اسمارٹ ریگولیٹری بحران ملکی معاشی ساکھ کو مستقل طور پر بہتر بنانے کی راہ میں سب سے بڑا لوپ ہول تسلیم کیا گیا ہے۔






