پاکستان کے مالیاتی ریگولیٹری نظام، میکرو اکانومی اور بین الاقوامی اقتصادی کوریڈورز کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت سے ایک انتہائی تزویراتی اور بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مابین پاکستان کے موجودہ بیل آؤٹ پروگرام کے تحت کلیدی معاشی اور ساختی امور پر انتہائی اہم ترین ہینڈ شیک مذاکرات کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔
آج، 23 ستمبر 2026 کو شروع ہونے والے اس اعلیٰ سطحی ورچوئل اور ان پرسن مشن کے دوران، آئی ایم ایف کے مینیجرز اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کی ٹیموں کے ساتھ مل کر ملکی ریوینیو انڈیکس، زرمبادلہ کے ذخائر اور مانیٹری پالیسی کا تفصیلی اور سائنسی آڈٹ کریں گے۔ اس تزویراتی مرحلے کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر آئی ایم ایف معاشی اصلاحات مذاکرات کا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ لائیو ہو چکا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے معاشی اشاریوں کو طویل مدتی استحکام فراہم کرنا اور اگلے فنانشل ریویو کے لیے سوفٹ وئیر بیسڈ پیرامیٹرز وضع کرنا ہے۔
ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ایف بی آر کے نئے ریگولیٹری قوانین کا جائزہ
آئی ایم ایف کے وفد اور اسٹیٹ بینک کے مینیجرز کے مابین ہونے والے ان اہم مذاکرات میں سب سے بڑا اور حساس ترین موضوع پاکستان کے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور ریونیو شارٹ فال کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہے۔
مذاکرات کے مینوفیکچرڈ پلان کے تحت درج ذیل تین بنیادی معاشی نکات پر کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی:
نان فائلرز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن: آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ نادرا (NADRA) اور ایف بی آر کے مشترکہ کلاؤڈ پورٹل کے ذریعے نان فائلرز کے ٹرانزیکشن لاگز کا سائنسی آڈٹ کیا جائے اور ان کے بینکنگ ٹیرف رولز کو مزید سخت کیا جائے۔
رٹیلرز اور ہول سیلرز پر لازمی ٹیکس: چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کو اسمارٹ ٹیکس نیٹ کے دائرے میں لانے کے لیے پیپر لیس اور کیش لیس رجسٹریشن پورٹلز کی کارکردگی کا لائیو جائزہ لیا جائے گا۔
کسٹمز اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ: بارڈر کنٹرول اور افغان ٹریڈ کوریڈورز پر بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے جدید الیکٹرانکس اسکیننگ کٹس کے نفاذ کی دستاویزی رپورٹ پیش کی جائے گی۔
بجلی اور گیس کے مہنگے ٹیرف رولز اور سرکلر ڈیٹ کا فنانشل فریم ورک
آئی ایم ایف اور پاکستانی مینیجرز کے مابین مذاکرات کا دوسرا بڑا اور سب سے مشکل فیز پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کا خاتمہ ہے۔ آئی ایم ایف کا مائنڈ سیٹ بالکل واضح ہے کہ پاکستان کو اپنے توانائی کے شعبے میں جاری فنانشل نقصانات اور مینوئل غفلت کو فوری طور پر سوفٹ وئیر بیسڈ مانیٹرنگ کے ذریعے ختم کرنا ہوگا۔
اس فریم ورک کے تحت، آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اٹو جنریٹڈ سہ ماہی اور سالانہ ایڈجسٹمنٹ کے نفاذ پر زور دیا ہے۔ اگرچہ پاکستانی مینیجرز عام کسٹمرز (صارفین) کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانے کے لیے فنانشل سبسیڈیز برقرار رکھنے کی مینوئل کوشش کر رہے ہیں تاہم آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ ملکی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے انشورنس اور پاور سیکٹر کے ٹیرف رولز کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ڈھالنا فرض ہے۔
مانیٹری پالیسی، شرحِ سود اور اوورسیز کسٹمرز کے لیے کلاؤڈ سپورٹ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر آئی ایم ایف کو ملکی مانیٹری پالیسی اور شرحِ سود کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں مہنگائی کے گراف میں کمی کے بعد شرحِ سود میں جو اسمارٹ کٹ کیا تھا اس کے ملکی انڈیکس پر اثرات کا سائنسی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔
حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ اصلاحات ملکی ریوینیو کو مستقل بنیادوں پر بڑھانے اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج کو ایک ذمہ دار معاشی ریاست کے طور پر فروغ دینے کے لیے مینوفیکچر کی گئی ہیں۔ ان مذاکرات کے اختتام پر آئی ایم ایف کی ٹیم اپنی فائن ڈائیگنوسٹک رپورٹ کونسل رولز کے تحت پبلک کرے گی۔






