سندھ کے کرکٹ میدانوں سے سندھ ٹیم سلیکشن پاکستان کپ کے حوالے سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جو ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو وسائل کی کمی یا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے تھے۔ سندھ کے وزیر برائے کھیل اور امورِ نوجوانان، سردار محمد بخش مہر نے پاکستان کپ کے لیے سندھ کی کرکٹ ٹیم کی تشکیل کا ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس بار انتخاب کا معیار کوئی پرچی نہیں بلکہ خالصتاً ٹیلنٹ ہوگا اور اس کا آغاز ایک واٹس ایپ میسج سے ہوگا۔
سندھ میں کرکٹ کا جنون ہمیشہ سے عروج پر رہا ہے لیکن اکثر دیہی علاقوں کا ٹیلنٹ بڑے شہروں تک نہیں پہنچ پاتا۔ اسی خلا کو پر کرنے کے لیے اس نئے ماڈل کو ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف شفافیت کو یقینی بنائے گا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نچلی سطح پر موجود ٹیلنٹ کو براہِ راست صوبائی وزیر اور سلیکٹرز کی نظروں میں لائے گا۔
ڈیجیٹل اسکاٹنگ: واٹس ایپ کے ذریعے ٹرائلز کا آغاز
اس منصوبے کا سب سے انقلابی پہلو ڈیجیٹل ٹرائلز ہیں۔ وزیرِ کھیل نے نوجوان کرکٹرز کو ایک سادہ مگر مؤثر راستہ دیا ہے۔ اب کھلاڑیوں کو ابتدائی مرحلے میں طویل سفر کر کے بڑے شہروں میں آنے کی ضرورت نہیں۔
درخواست دینے کا طریقہ کار:
کھلاڑی اپنی بیٹنگ یا باؤلنگ کی ایک منٹ کی ویڈیو بنائیں۔
ویڈیو کے ساتھ اپنا نام، ڈویژن (کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ وغیرہ) اور موبائل نمبر لکھیں۔
یہ تمام تفصیلات محکمہ کھیل سندھ کے آفیشل واٹس ایپ نمبر پر ارسال کریں۔
ان ویڈیوز کا جائزہ ماہرین کی ایک ٹیم لے گی اور بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو اگلے مرحلے یعنی فزیکل ٹرائلز کے لیے شارٹ لسٹ کیا جائے گا۔
ڈویژنل سطح پر ٹرائلز اور میرٹ کی بالادستی
سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شارٹ لسٹ کیے گئے کھلاڑیوں کے ٹرائلز ہر ڈویژن کی سطح پر منعقد کیے جائیں گے۔ سردار محمد بخش مہر کے مطابق اس کا مقصد عمل کو (Inclusive) بنانا ہے تاکہ کوئی بھی باصلاحیت کھلاڑی محروم نہ رہے۔ محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان سندھ اس پورے عمل کی نگرانی کرے گا تاکہ شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
اگرچہ یہ ٹورنامنٹ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے تحت کھیلا جائے گا لیکن ٹیم کی انتظامی ذمہ داریاں اور کھلاڑیوں کی سہولیات کا انتظام سندھ حکومت خود کرے گی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جہاں ایک صوبائی حکومت اتنی بڑی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش میں خود متحرک ہوئی ہے۔
پاکستان کپ 2026: فتح کی تیاری اور وقت کی اہمیت
پاکستان کپ مئی کے آخر یا جون کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے جس کا مطلب ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے پاس وقت بہت کم ہے۔ سردار محمد بخش مہر نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف ایک ٹیم نہیں بنانا چاہتے بلکہ ایک ایسی فاتح ٹیم بنانا چاہتے ہیں جو سندھ کا نام روشن کرے۔
اس منصوبے کے تحت منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو جدید ٹریننگ کیمپوں میں رکھا جائے گا جہاں انہیں بین الاقوامی معیار کی کوچنگ دی جائے گی۔ یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے قبل سندھ کے کئی کھلاڑی مواقع نہ ملنے کی وجہ سے دیگر صوبوں یا غیر ملکی لیگز کا رخ کرتے رہے ہیں۔
مزید اہم اور تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar کو ضرور وزٹ کریں۔






