متحدہ عرب امارات (UAE) اور خاص طور پر دبئی نے ایک بار پھر دنیا کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے میں حیران کر دیا ہے۔ دبئی کے ڈیجیٹل کلاؤڈ مینیجرز، الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر اور دبئی پولیس نے مشترکہ طور پر ایک جدید ترین اور ہائی ٹیک الگورتھم پر مبنی نظام متعارف کرایا ہے۔ حکومت نے باقاعدہ طور پر دبئی ڈیپ فیک ویڈیوز اے آئی ماڈل کا نفاذ کر دیا ہے جس کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ پر پھیلی ہوئی جعلی، چہرہ بدلنے والی اور گمراہ کن ویڈیوز کا سیکنڈوں میں سراغ لگانا ہے۔
آج جاری ہونے والے آفیشل مینوئل کے مطابق اس نئے ڈیجیٹل فریم ورک کو دبئی کے مرکزی سائبر کرائم مانیٹرنگ گرڈ کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ یہ اسمارٹ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے مواد کی خودکار طریقے سے لائیو اسکیننگ کرے گی تاکہ بلیک مارکیٹنگ، آن لائن فراڈ اور شناخت کی چوری جیسے سنگین مینوئل جرائم کا سائنسی بنیادوں پر جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے لائیو خطرات اور نئے سوفٹ وئیر کی مینوفیکچرنگ
موجودہ ڈیجیٹل دور میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی دنیا بھر کے معاشی مینیجرز اور جیو پولیٹیکل اداروں کے لیے ایک لرزہ خیز خطرہ بن چکی ہے۔ ہیکرز آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے سوفٹ ویئرز کا غلط استعمال کر کے کسی بھی عام شہری، کاروباری شخصیت یا حکومتی رہنما کا چہرہ اور آواز ہو بہو مینوفیکچر کر لیتے ہیں جس سے فنانشل مارکیٹس اور پبلک انٹرسٹ کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دبئی کے اس نئے اے آئی ماڈل کے بنیادی تنظیمی پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
پکسل لیول اسکیننگ : یہ سوفٹ وئیر ویڈیو کے مینوئل فریمز کو پکسل کی سطح پر جا کر چیک کرتا ہے اور انسانی آنکھ سے اوجھل باریک ترین کمپیوٹر ریڈی ایشن اور ایڈیٹنگ کا منٹوں میں سراغ لگا لیتا ہے۔
بائیومیٹرک آواز کی تصدیق: ویڈیو میں موجود شخص کی آواز کی فریکوئنسی اور ہونٹوں کی نقل و حرکت کا لائیو آڈٹ کیا جاتا ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ آواز کسی مشین نے آٹو جنریٹ تو نہیں کی ہے۔
فوری ڈیجیٹل الرٹ: اگر کلاؤڈ سسٹم کو کسی بھی ویڈیو میں جعل سازی کا شبہ ہو تو وہ فوری طور پر دبئی سیف سٹی کے ڈیش بورڈ پر ایک ہنگامی الرٹ لائیو کر دیتا ہے جس کے بعد اس مواد کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر کا تحفظ اور کیش لیس بینکنگ کا فنانشل فریم ورک
دبئی کے فنانشل ٹیرف رولز اور کمرشل مینیجرز کے مطابق اس اے آئی ماڈل کا سب سے بڑا معاشی فائدہ دبئی کے بینکنگ اور کارپوریٹ سیکٹر کو حاصل ہوگا۔ آج کل متعدد فراڈ گروپس کسٹمرز کے جعلی ڈیپ فیک ویڈیو کالز مینوفیکچر کر کے بینک اکاؤنٹس سے کیش لیس ریوینیو منتقل کروا لیتے تھے۔
اب اس اسمارٹ سیکیورٹی کوریڈور کے نفاذ سے بینکوں کے آن لائن پورٹلز پر بائیومیٹرک وائٹ لسٹنگ کو 100 فیصد محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ دبئی الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر نے تمام مالیاتی اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے کسٹمر سروسز کے سوفٹ ویئر کو اس نئے اے آئی انجن کے ساتھ مربوط کریں تاکہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر سے آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا گراف مستقل طور پر اوپر جا سکے۔
پبلک نوٹس اور لائیو ہیلپ ڈیسک کسٹمر سپورٹ
دبئی حکومت نے تمام انٹرنیٹ صارفین اور نجی مینیجرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک ویڈیو یا آڈیو لنک پر کلک کرنے سے مکمل گریز کریں۔ اگر کسی شہری کو سوشل میڈیا پر اپنی یا کسی دوسرے کی جعلی ویڈیو نظر آئے تو وہ فوری طور پر دبئی پولیس کے آفیشل پورٹل پر لاگ ان کر کے لائیو رپورٹ درج کرا سکتا ہے یا ان کی یونیورسل ہیلپ لائن پر کال کر کے اپنے ڈیٹا لاگز کا تکنیکی آڈٹ کروا سکتا ہے۔ یہ نیا ماڈل پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے خطرات کا مقابلہ صرف ٹیکنالوجی کے اسمارٹ استعمال سے ہی ممکن ہے۔






