پاکستان بھر میں پسماندہ اور مستحق خاندانوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور اسکولوں میں داخلوں کی شرح کو بڑھانے کے لیے وفاقی حکومت کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے نیٹ ورک، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ایک جامع لاجسٹک اور فائنینشل روڈ میپ جاری کیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے باقاعدہ طور پر بینظیر تعلیمی وظائف رجسٹریشن کا پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ انفراسٹرکچر فعال کر دیا ہے جس کے تحت بینظیر کفالت پروگرام کے لیے اہل خواتین کے بچوں کو ماہانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر نقد تعلیمی وظائف فراہم کیے جائیں گے۔
اس پبلک ویلفیئر پراجیکٹ کا بنیادی ہدف روایتی اور پسماندہ مینوئل تعلیمی اخراجات کے بوجھ کو ختم کرنا ہے تاکہ کوئی بھی معصوم بچہ فنڈز کی قلت کی وجہ سے اسکول جانے سے محروم نہ رہے۔ محکمے کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ اس فنانشل کوریڈور کے تحت رجسٹریشن اور تمام دیگر بی آئی ایس پی سروسز شہریوں کے لیے بالکل مفت مینوفیکچر کی گئی ہیں اور کسی بھی سطح پر نقد کسٹمز چارجز وصول کرنا قانونی طور پر جرم ہے۔
رجسٹریشن کے لیے لازمی اہلیت کا دستاویزی معیار
بی آئی ایس پی کے آفیشل ریگولیٹری مینوئل کے مطابق تعلیمی وظیفے کے حصول کے لیے خاندانوں کا مرکزی فنڈ کے ڈیٹا بیس سے وائٹ لسٹ ہونا فرض ہے۔
رجسٹریشن کے عمل کو شروع کرنے کے لیے درج ذیل تین بنیادی سائنسی اور دستاویزی شرائط کو پورا کرنا لازمی ہے:
کفالت پروگرام سے تصدیق: بچے کی حقیقی والدہ کا بینظیر کفالت پروگرام (Benazir Kafaalat) کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ اور مالیاتی امداد حاصل کرنے کے لیے اہل ہونا فرض ہے۔
نادرا کمپیوٹرائزڈ بی فارم: طالب علم کا نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) سے منظور شدہ اصل کمپیوٹرائزڈ بی فارم (B-Form) ہونا لازمی ہے جو سوفٹ ویئر اسکیننگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
رجسٹرڈ موبائل نمبر: درخواست گزار کے پاس وہی موبائل نمبر ہونا چاہیے جو پہلے سے بی آئی ایس پی کے آفیشل کلاؤڈ ریکارڈ میں درج اور ایکٹیو ہے۔
بی آئی ایس پی تحصیل دفتر کا دورہ اور اسکول اینرولمنٹ سلپ کا مینوئل
اہل خاندانوں کو اپنے بچوں کی رجسٹریشن مکمل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ اور آسان مینوئل فالو کرنا ہوگا، جو شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مینوفیکچر کیا گیا ہے:
تحصیل دفتر کا وزٹ: والدہ اپنے بچے کو اپنے ہمراہ لے کر قریبی بی آئی ایس پی تحصیل دفتر (BISP Tehsil Office) تشریف لائیں۔ دورے کے دوران بچے کا اصل نادرا بی فارم اور رجسٹرڈ موبائل نمبر فراہم کرنا فرض ہے۔
اینرولمنٹ سلپ کا حصول: کاؤنٹر پر بائیومیٹرک اور دستاویزی اسکیننگ مکمل ہونے کے بعد عملہ ایک خصوصی اینرولمنٹ سلپ آٹو جنریٹ کر کے جاری کرے گا۔
اسکول سے تصدیق: کسٹمر اس سلپ کو بچے کے متعلقہ اسکول لے جائے گا۔ اسکول انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ سلپ پر بچے کی کلاس، سیکشن، کلاس ٹیچر کا نام اور دیگر معلومات درج کرے۔ آخر میں اسکول کے ہیڈ ٹیچر کے دستخط اور آفیشل مہر لگوانا لازمی ہے۔
سلپ کی واپسی: مکمل طور پر فل کی گئی اسکول اینرولمنٹ سلپ کو واپس بی آئی ایس پی تحصیل دفتر میں جمع کرانا ہوگا جہاں سوفٹ ویئر مینیجرز ڈیٹا کا تکنیکی آڈٹ کر کے وظیفے کی رقم الاٹ کر دیں گے۔
70 فیصد اسکول حاضری کی سخت شرط اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ
حکومت نے وظیفے کے فنانشل ٹیرف کے غلط استعمال کو روکنے اور بچوں کو مستقل اسکول بھیجنے کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک کڑی شرط عائد کی ہے۔ تمام رجسٹرڈ طلبہ کے لیے اسکول میں کم از کم 70 فیصد حاضری برقرار رکھنا لازمی ہے۔
اگر کسی طالب علم کی حاضری کا انڈیکس 70 فیصد سے کم پایا گیا تو کلاؤڈ مانیٹرنگ سسٹم خودکار طریقے سے اگلے مہینے کا تعلیمی وظیفہ روکنے کا الرٹ جاری کر دے گا۔ یہ اسمارٹ ریگولیشن نادرا کارڈ ہولڈرز اور اسکول ریکارڈز کے مابین ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دیتا ہے جو بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے غریب بچوں کے مستقبل کو مستقل طور پر محفوظ بنائے گا۔






