پاکستان میں الیکٹرک کاروں کے فروغ، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں نمایاں کمی کے لیے وفاقی حکومت نے ایک انقلابی اور تزویراتی سنگِ میل حاصل کر لیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے طویل انتظار کے بعد پانچ سالہ نئی آٹو پالیسی (Auto Policy 2026-31) کے ڈرافٹ کو اصولی طور پر گرین سگنل دے دیا ہے، جس کے تحت نیو انرجی وہیکلز ٹیکس ریلیف کا ایک جامع اور سائنسی فریم ورک نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس نئی اور اسمارٹ پالیسی کا بنیادی مقصد روایتی ایندھن (پٹرول اور ڈیزل) پر چلنے والی گاڑیوں کے مینوئل کسٹمز کو ختم کر کے ملک کو مکمل طور پر کلین انرجی اور الیکٹرک موبلٹی کے بین الاقوامی کوریڈورز سے جوڑنا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس سٹرکچرل ڈرافٹ کی منظوری کے بعد اسے حتمی قانونی توثیق کے لیے وزارتِ قانون اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے پاس بھیج دیا گیا ہے تاکہ تمام فنانشل ریگولیشنز کو شفاف بنایا جا سکے۔
صرف 1 فیصد سیلز ٹیکس اور متعدد بڑے ٹیکسز سے مکمل استثنیٰ
محکمہ صنعت و پیداوار اور فنانس ڈویژن کے مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل کے مطابق، نیو انرجی وہیکلز ٹیکس ریلیف کے تحت الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے خریداروں اور مینوفیکچررز کو تاریخ کی سب سے بڑی مالیاتی مراعات دی گئی ہیں:
ٹیکسز میں تاریخی کٹوتی: مقامی طور پر اسمبل ہونے والی تمام نیو انرجی وہیکلز (NEVs)، ان کے سی کے ڈی (CKD) کٹس، پرزہ جات اور خام مال پر سیلز ٹیکس کی شرح کو عام گاڑیوں کی طرح 25 فیصد رکھنے کے بجائے صرف 1 فیصد فکس کر دیا گیا ہے
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ: الیکٹرک گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT) سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔
ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) کی معافی: کسٹمرز پر سے ایڈوانس انکم ٹیکس اور 10 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کا بوجھ یکسر ہٹا دیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں کی ابتدائی قیمتوں میں لاکھوں روپے کی ریکارڈ کمی لائی جا سکے۔
NEVs get major tax relief,hybrid lowered to conventional vehicle status
— Shahbaz Rana (@81ShahbazRana) September 10, 2026
Prime Minister Shehbaz Sharif has approved a draft of a new five-year auto policy, continuing protection to existing assemblers of conventional vehicles for four more years but offering substantial tax…
بینک لون کی حد 30 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنے کا فیصلہ
نئی پالیسی کے تحت مینیجرز نے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے ساتھ ساتھ کسٹمرز کی فنانشل بائینگ پاور کو بڑھانے کے لیے بینکنگ قوانین کو بھی سوفٹ وئیر بیسڈ اور انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مائنڈ سیٹ کے مطابق اب الیکٹرک کار خریدنے کے لیے بینک سے حاصل کیے جانے والے قرضے (Loan) کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ (10 ملین) روپے کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بینکنگ چینلز کے ذریعے قسطوں کی واپسی کی میعاد کو بھی 3 سال سے بڑھا کر 5 سال فکس کر دیا گیا ہے تاکہ تنخواہ دار طبقہ اور کسٹمرز بغیر کسی معاشی دباؤ کے ان گاڑیوں کو کیش لیس مینوئل کے تحت حاصل کر سکیں۔
چارجنگ اسٹیشنز پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی اور موٹروے ٹول ٹیکس کی معافی
انفراسٹرکچر کے سائنسی لوپ ہولز کو دور کرنے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز کی مینوفیکچرنگ اور امپورٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بیرونِ ملک سے امپورٹ کیے جانے والے چارجنگ اسٹیشنز اور ان کے اسپیئر پارٹس پر کسٹمز ڈیوٹی کو محض 1 فیصد پر لاک کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بیٹری تبدیل کرنے والے اسٹیشنز کی تعمیر کے لیے نجی کارپوریٹ مینیجرز کو خصوصی رعایتیں دی جائیں گی۔
مزید برآں گرین موبلٹی کو فروغ دینے کے لیے نیو انرجی وہیکلز (بشمول بیٹری الیکٹرک وہیکلز اور پلگ ان ہائبرڈز) کو پاکستان کی تمام موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز پر ٹول ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دینے کی تجویز بھی ڈرافٹ کا حصہ ہے جو طویل سفر کرنے والے ڈرائیورز کے لیے ایک بہت بڑا لائف سیونگ معاشی ریلیف ثابت ہوگا۔






