پاک ترکیہ سفارتی مذاکرات کے تحت پاکستان اور ترکیہ کے مابین قائم دیرینہ اسٹریٹجک، تجارتی اور برادرانہ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال پر ایک مشترکہ بیانیہ وضع کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے مابین ایک تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات کے پورے پہلو اور باہمی دلچسپی کے علاقائی امور کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
آج، 10 ستمبر 2026 کو ہونے والے اس ہائی لیول سیشن کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز بالخصوص مسئلہ فلسطین پر ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور عالمی سطح پر ایک متحرک موقف اپنانے پر مکمل اتفاق کیا۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین مینوئل سفارتی چینلز کو مربوط کر کے بین الاقوامی فورمز پر ون یونٹ کے طور پر سامنے آنا ہے۔
مسئلہ فلسطین پر مشترکہ موقف اور برطانوی فیصلے کی سائنسی تائید
اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مظلوم فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کا اس دیرینہ تنازعے پر ہمیشہ سے ایک ہی اصولی موقف رہا ہے۔
وزرائے خارجہ نے درج ذیل اہم بین الاقوامی اعلانات کی غیر مشروط تائید کا اعادہ کیا:
8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ: دونوں رہنماؤں نے آٹھ عرب-اسلامی ممالک کے اس مشترکہ بیان کی کھل کر حمایت کی جس میں برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے ہونے والی برآمدات پر پابندی عائد کرنے اور ان بستیوں سے منسلک سروسز کو محدود کرنے کے فیصلے کو سراہا گیا تھا۔
دو ریاستی حل : اسحاق ڈار اور ہاکان فیدان نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی طرف سے جاری کردہ جوائنٹ اسٹیٹمنٹ آن دی ٹو-اسٹیٹ سلوشن کی مکمل حمایت کی، جس کے تحت 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔
آر فور (R4) فریم ورک اور سعودی عرب و مصر کے ساتھ تزویراتی اتحاد
علاقائی استحکام اور بحیرہ عرب سے لے کر بحیرہ روم تک کے تجارتی کوریڈورز کو محفوظ بنانے کے لیے دونوں مینیجرز نے ایک نئے سفارتی بلاک کو فعال کرنے پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے آر فور (R4) فریم ورک کے تحت قریبی اور مستقل مشاورت کو جاری رکھنے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا۔
یاد رہے کہ اس اہم ریگولیٹری فریم ورک میں پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ ساتھ دو دیگر بڑی مسلم طاقتیں یعنی سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔ اس اسٹریٹجک الائنس کا بنیادی مقصد مسلم امہ کے سیاسی اور معاشی مفادات کا تحفظ کرنا، دہشت گردی کے خلاف سوفٹ وئیر اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو فروغ دینا اور خطے میں کسی بھی بیرونی عسکری مداخلت کا سدِباب کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے سائیڈ لائنز پر ملاقات کا فیصلہ
ٹیلی فون کال کے اختتام پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر اپنے روابط کو مزید گہرا کریں گے۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں سیشن کے موقع پر سائیڈ لائنز پر ایک تفصیلی اور باقاعدہ ون آن ون ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس مجوزہ ملاقات کے مینوئل میں پاک-ترکیہ اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک پر عملدرآمد کا آڈٹ شامل ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے مابین کیش لیس ریوینیو اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے نئے راستے کھلیں گے۔






