پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام ، بلیو اکانومی اور ساحلی پٹی کی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی تاریخی اور تزویراتی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے. وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے باقاعدہ طور پر پاکستان کی تاریخ کے پہلے 10 سالہ شارک مچھلی تحفظ ایکشن پلان کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔
آج، 8 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ بحری امور نے اس میگا پراجیکٹ کا اسٹرکچرل مینوئل جاری کیا. اس وسیع تر منصوبے کو وزارتِ بحری امور کے ماتحت کام کرنے والے ادارے، میرین فشرٹز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے تین مختلف مراحل میں ملک کی سمندری حدود میں نافذ العمل کیا جائے گا تاکہ اوور فشنک اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث مٹتی ہوئی شارک مچھلیوں کی اقسام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
تین مراحل پر مشتمل فریم ورک اور نیشنل ایڈوائزری کمیٹی کا قیام
اس اسمارٹ اور سائنسی ماحولیاتی منصوبے کی سخت مانیٹرنگ اور مینوفیکچرنگ آڈٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کثیر الجہتی نیشنل ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے. یہ کمیٹی وفاقی مینیجرز، بین الاقوامی ماحولیاتی محققین، کسٹمز حکام اور کوسٹ گارڈز کے نیٹ ورک کے مابین ون یونٹ کے طور پر کام کرے گی تاکہ مینوئل دفتری تاخیر کو ختم کیا جا سکے۔ .
ایکشن پلان کے تین بنیادی لاجسٹک اور سائنسی مراحل درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
فیز 1 (تحقیق اور ڈیٹا اسکیننگ): پہلے مرحلے میں پاکستان کے سمندری پانیوں (بحیرہ عرب) میں موجود شارک مچھلیوں کی اقسام، ان کی آبادی کے انڈیکس اور ان کی نقل و حرکت کے راستوں کا جدید سوفٹ وئیر اور کلاؤڈ سسٹمز کے ذریعے سائنسی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔
فیز 2 (قانونی ضوابط اور مانیٹرنگ): دوسرے فیز کے تحت سمندر میں کی جانے والی غیر قانونی فشنک پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی اور ایسی اقسام جن کا وجود خطرے میں ہے ان کے شکار پر کونسل رولز کے تحت سخت ترین جرمانے اور سزائیں نافذ ہوں گی۔
فیز 3 (انٹرنیشنل کسٹمز مطابقت): آخری مرحلے میں پاکستان کے سمندری قوانین کو عالمی قوانین کے برابر لا کھڑا کیا جائے گا تاکہ سمندری گوشت کی ایکسپورٹ میں شفافیت برقرار رہے۔
ساحلی مچھیروں کی معاشی بحالی اور لائیولی ہڈ سپورٹ کا مینوئل
وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے واضح کیا کہ اس پالیسی کا مقصد صرف مچھلیوں کا تحفظ نہیں ہے، بلکہ سمندر سے جڑے لاکھوں غریب کسٹمرز (مچھیروں) کے معاشی مستقبل کو بھی محفوظ بنانا ہے. شارک مچھلیوں کے بے دریغ شکار کو روکنے کے بدلے حکومتِ پاکستان ساحلی ماہی گیر برادریوں کو ٹارگٹڈ مالیاتی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گی۔
ماہی گیروں کے لیے درج ذیل مراعات کا روڈ میپ فائنل کیا گیا ہے:
متبادل روزگار کی فراہمی: مچھیروں کو پائیدار ماہی گیری کے جدید طریقے سکھائے جائیں گے اور انہیں کیش لیس فنڈز کے ذریعے ماحول دوست جال اور کشتیاں مینوفیکچر کر کے دی جائیں گی۔
ٹیکنیکل اسکلز کی ٹریننگ: مچھیروں کے بچوں کو نادرا اور پی ایف ٹی پی کے پورٹلز کی طرح جدید اسمارٹ فشرٹز مینجمنٹ سوفٹ ویئرز کی مفت ڈیجیٹل اسکیننگ ٹریننگ دی جائے گی۔
انڈین اوشن ٹیونا کمیشن (IOTC) اور بین الاقوامی سفارتی تعاون
پریس بریفنگ کے دوران مینیجرز نے واضح کیا کہ شارک مچھلیاں بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرتی ہیں اس لیے ان کا تحفظ اکیلے پاکستان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی سائنسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اس ایکشن پلان کے تحت انڈین اوشن ٹیونا کمیشن (IOTC) اور اقوام متحدہ کے دیگر ماحولیاتی کلاؤڈ نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے سفارتی روابط کو مزید گہرا کرے گا۔
اس عالمی تعاون کی بدولت پاکستان کی میرین فشرٹز کو جدید سیٹلائٹ ٹریکنگ ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی جو مینوئل پٹرولنگ پر آنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات کو ختم کر کے منٹوں میں غیر قانونی بحری جہازوں کا سراغ لگا سکے گی وفاقی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف بحیرہ عرب کے لائف انڈیکس کو بچائے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے گرین اور سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ دے گا۔






