پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے ہولناک اثرات، مون سون کی شدید بارشوں اور دریائے سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلابوں سے نمٹنے کے لیے پاک جاپان فلڈ پروٹیکشن گرانٹ کے تحت ایک بڑا بین الاقوامی معاشی اور سفارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور جاپان نے صوبہ سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادیوں کو محفوظ کرنے کے لیے 16.4 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 4.5 ارب روپے) کے گرانٹ فنڈنگ کے تاریخی دستاویزات پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔
آج، 7 ستمبر 2026 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں اس منصوبے کا باقاعدہ فریم ورک جاری کیا گیا جسے پروجیکٹ فار فلڈ پروٹیکشن اینڈ ڈائیک امپروومنٹ آن انڈس ریور ان سندھ پروونس کا نام دیا گیا ہے۔ اس اہم ترین منصوبے کا بنیادی مقصد روایتی مینوئل حفاظتی پشتوں کو انجینئرڈ اور سائنسی خطوط پر مینوفیکچر کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں لاڑکانہ اور اس کے گردونواح کے کسٹمرز (شہریوں) کو فول پروف پروٹیکشن فراہم کی جا سکے۔
دستاویزات کا تبادلہ اور وفاقی و بین الاقوامی مینیجرز کی شرکت
اسلام آباد میں ہونے والی اس اسٹریٹجک تقریب کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی اور معاشی مینیجرز نے فنڈز کی شفاف منتقلی اور لاجسٹک سپلائی چین کو کنٹرول کرنے کے لیے دستاویزات کا مینوئل تبادلہ کیا۔
معاہدے پر دستخط کرنے والے مینیجرز کی تفصیل درج ذیل ہے:
ایکسچینج آف نوٹس اور ریکارڈ آف ڈسکشن: پاکستان کی جانب سے سیکریٹری اقتصادی امور محمد ہمیر کریم کدوائی اور جاپان کی طرف سے پاکستان میں متعین جاپانی سفیر اکاماتسو شوئیچی نے دستخط کیے اور دستاویزات کا تبادلہ کیا۔
گرانٹ اگریمنٹ کی توثیق: مالیاتی گرانٹ کے اصل معاہدے پر وزارتِ اقتصادی امور کی ایڈیشنل سیکریٹری محترمہ سبینہ قریشی اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی پاکستان کے سینئر نمائندے سوگاوارا تاکایوکی نے دستخط کیے۔
Pakistan and Japan have signed the Exchange of Notes, Record of Discussion and Grant Agreement, for the “Project for Flood Protection and Dike Improvement on Indus River in Sindh Province”, aimed at strengthening flood protection infrastructure and enhancing resilience of…
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 7, 2026
لاڑکانہ کا اولڈ آباد بند : منصوبے کا بنیادی محور اور سائنسی اپ گریڈیشن
جاپان کی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی 16.4 ملین ڈالر کی یہ غیر مشروط گرانٹ مکمل طور پر صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر واقع انتہائی حساس اور تاریخی حفاظتی بند اولڈ آباد بند کی مضبوطی اور تزئین و آرائش پر خرچ کی جائے گی۔ ماضی کے سیلابوں کے دوران اس بند کو شدید مینوئل اور سٹرکچرل نقصانات پہنچے تھے جس سے پورے لاڑکانہ ڈویژن کے زیرِ آب آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
اس نئے انجینئرنگ اور سوفٹ وئیر روڈ میپ کے تحت درج ذیل تین بڑے اسمارٹ فیچرز نافذ کیے جائیں گے:
ڈائیک امپروومنٹ اور پختہ مینوفیکچرنگ: مٹی کے روایتی پشتوں کو بدل کر جدید جاپانی ٹیکنالوجی کے ذریعے پختہ اور پتھریلے حفاظتی بند مینوفیکچر کیے جائیں گے جو پانی کے شدید ترین دباؤ کو برداشت کر سکیں۔
لائیو ٹیلی میٹری اور کلاؤڈ مانیٹرنگ: بند کے اوپر سینسرز اور سوفٹ وئیر بیسڈ واٹر لیول مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے گا جو فلڈ کنٹرول روم کو چوبیس گھنٹے لائیو سائنسی ڈیٹا فراہم کرے گا۔
کمیونٹی ریزلیئنس نیٹ ورک: نادرا کے پورٹل اور کیو آر کوڈ الرٹس کے ساتھ مربوط ایک ایسا ایپ سسٹم بنایا جائے گا جو ندی کی طغیانی کی صورت میں قریبی کسانوں اور دیہاتوں کو آٹو جنریٹڈ ڈیجیٹل وارننگ جاری کر سکے۔
جاپانی سفیر اکاماتسو شوئیچی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جاپان پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی جنگ میں تنہا نہیں چھوڑے گا اور جائیکا (JICA) کے مینیجرز اس منصوبے کی کوالٹی کا چوبیس گھنٹے آڈٹ کریں گے تاکہ فنڈز کا ایک ایک روپیہ حقدار آبادیوں کی حفاظت پر شفافیت کے ساتھ استعمال ہو سکے۔






