پاکستان میں صحتِ عامہ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، بین الاقوامی سفری ضوابط کو آسان بنانے اور مینوئل پیپر سرٹیفکیٹس کے روایتی کسٹمز کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن سید مصطفیٰ کمال نے باقاعدہ طور پر ملک کے پہلےانٹرنیٹ مسافر ویکسینیشن سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے۔
یہ جدید ترین اور مرکزی فیسلٹی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم کی گئی ہے جہاں پاکستان آنے اور یہاں سے بیرونِ ملک جانے والے تمام مسافروں کو سفری ویکسینیشن اور تصدیق کی تمام خدمات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کی جائیں گی۔ وزارتِ صحت کے مینیجرز کے مطابق اسلام آباد کے اس فلیگ شپ مرکز کے کامیاب آغاز کے بعد اب علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سمیت ملک کے دیگر بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بھی ایسے مراکز کی مینوفیکچرنگ اور توسیع کا عمل مراحل وار شروع کر دیا گیا ہے۔
نادرا کے ساتھ یو ایم آر معاہدہ اور شناختی کارڈ ہی میڈیکل ریکارڈ نمبر
اس سینٹرلائزڈ ہیلتھ کوریڈور کی سب سے بڑی تکنیکی اور سائنسی کامیابی یہ ہے کہ وزارتِ صحت نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کے ساتھ ایک تزویراتی معاہدہ دستخط کیا ہے جسے یونیورسل میڈیکل ریکارڈ (UMR) کا نام دیا گیا ہے۔
اس نئے ڈیجیٹل اور سوفٹ وئیر بیسڈ فریم ورک کے تحت درج ذیل انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں:
شناختی کارڈ ہی میڈیکل نمبر: اب عازمین کا قومی شناختی کارڈ (CNIC) یا نائیکوپ (NICOP) نمبر ہی ان کا مستقل ڈیجیٹل میڈیکل ریکارڈ نمبر بن جائے گا۔
پیپر لیس اور کیش لیس سروس: یہ پورا نظام 100 فیصد ڈیجیٹل اور کیش لیس فنانشل ٹیرف پر مینوفیکچر کیا گیا ہے۔ مسافروں کے ویکسینیشن ریکارڈز نادرا کے کلاؤڈ ڈیٹا بیس میں براہِ راست لاگ ان ہوں گے جہاں سے کیو آر کوڈ (QR Code) کے ذریعے ان کی الیکٹرانک توثیق سیکنڈوں میں ہو سکے گی۔
ایک ہی ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ: اب مسافروں کو مختلف بیماریوں کے لیے الگ الگ مینوئل کارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایک واحد ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ ہی فلو، پولیو اور گردن توڑ بخار کی ویکسینیشنز کی تصدیق کے لیے کافی ہوگا۔
حج و عمرہ کے زائرین کے لیے گردن توڑ بخار کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اصولوں کے مطابق اب پاکستان سے سفر کرنے والے یا واپس آنے والے مسافروں کے لیے ہیلتھ اسکریننگ کو لازمی بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کا سفر کرنے والے کسٹمرز پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ حج اور عمرہ کے تمام زائرین کے لیے گردن توڑ بخار کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا قانونی طور پر فرض ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ پاکستان میں ابھی تک پولیو وائرس کے سائنسی لوپ ہولز موجود ہیں اس لیے چار ہفتوں سے زائد قیام کرنے والے تمام مسافروں کے لیے ایئرپورٹ چھوڑنے سے قبل پولیو کی خوراک اور نادرا کا بین الاقوامی پولیو کارڈ حاصل کرنا لازمی ہے۔ نئے ٹریولرز سینٹر میں ان تمام لائف سیونگ ویکسینز کی بلاتعطل فراہمی کے لیے عالمی معیار کے چلرز مینوفیکچر کر کے نصب کیے گئے ہیں تاکہ ادویات کی کوالٹی خراب نہ ہو۔
ایئرپورٹس پر ہیلتھ اور نادرا ڈیسکس کا قیام
مسافروں کی مینوئل تاخیر اور ایئرپورٹ پر ہجوم کے دباؤ کو مینیج کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے امیگریشن کوریڈورز کے اندر بھی بڑی سٹرکچرل تبدیلیاں کی ہیں۔ اب پاکستان کے تمام بڑے ایئرپورٹس پر چوبیس گھنٹے فعال رہنے والے ہیلتھ اور نادرا کاؤنٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔ بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کا تمام تر ہیلتھ ڈیٹا ان ایئرپورٹ ڈیسکس کے ذریعے لائیو مانیٹر کیا جائے گا۔ جائیکا (JICA) اور ڈبلیو ایچ او (WHO) کے مینیجرز نے بھی پاکستان کے اس ڈیجیٹل ہیلتھ روڈ میپ کی شدید تعریف کی ہے جو عالمی ہیلتھ انڈیکس میں پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ دے گا۔






