پاکستان سے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمند زائرین اور ٹریول مینیجرز کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی ریگولیٹری مینوئل جاری کیا گیا ہے۔ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے زائرین کے لیے اپنے مخصوص پرائیویٹ حج اسکیم پیکجز کا انتخاب کرنے اور واجبات کی ادائیگی مکمل کرنے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کر دی گئی ہے۔
وزارتِ مذہبی امور کے مرکزی ترجمان محمد عمر بٹ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، یہ ڈیڈ لائن نئی چار سالہ قومی حج پالیسی (2027-2030) کے اسٹرکچرل فریم ورک کے تحت نافذ کی گئی ہے۔ حکومت نے تمام عازمینِ حج کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی مینوئل فراڈ یا مالیاتی نقصان سے بچنے کے لیے مقررہ تاریخ سے پہلے اپنے تمام تر سائنسی اور سفری مراحل کو کلاؤڈ سسٹمز کے ذریعے حتمی شکل دیں۔
16 بنیادی پیکجز اور 14 لاکھ سے 37 لاکھ روپے تک کے مالیاتی مینوئل کی تفصیل
وزارتِ مذہبی امور کے مینیجرز نے اس سال پرائیویٹ حج آرگنائزرز (HGOs) کے اشتراک سے مجموعی طور پر 16 بنیادی حج پیکجز کو حتمی شکل دے کر ڈیجیٹل پورٹل پر لائیو کر دیا ہے۔ ان پیکجز کا مقصد مختلف معاشی پسِ منظر رکھنے والے کسٹمرز کو ان کے بجٹ کے مطابق بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، فنانشل ٹیرف کی تفصیلات درج ذیل سائنسی پیرامیٹرز کے مطابق فکس کی گئی ہیں:
پیکجز کی قیمتیں: اس سال پرائیویٹ اسکیم کے تحت پیکجز کی کم سے کم حد 14 لاکھ (1.4 ملین) روپے سے شروع ہوتی ہے جبکہ فائیو اسٹار اور لگژری سہولیات سے لیس پیکجز کی زیادہ سے زیادہ قیمت 37 لاکھ 50 ہزار (3.75 ملین) روپے تک مقرر کی گئی ہے۔
سفری اور رہائشی سہولیات: زائرین کو ان کے مینوفیکچرنگ پلان کے مطابق روایتی طویل مدت کے علاوہ مختصر دورانیے کے حج پیکجز اور بیرونِ ملک سے براہِ راست پروازوں کا کسٹمز کوٹہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔
نجی کمپنیوں کا ڈیٹا اپ لوڈ: زیادہ تر لائسنس یافتہ حج کمپنیوں نے وزارت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے تمام پیکجز کی لوکیشن اور کیٹیگریز کو سنٹرلائزڈ حج مینجمنٹ سسٹم پر کامیابی سے اپ لوڈ کر دیا ہے۔
پاک حج موبائل ایپ کے بغیر براہِ راست نقد ادائیگی پر پابندی
حج آپریٹرز کے روایتی مینوئل کسٹمز اور ماضی کے فراڈ اسکیموں کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے پہلی بار ایک مکمل پیپر لیس اور کیش لیس ڈیجیٹل مینوئل متعارف کرایا ہے۔ وزارتِ مذہبی امور نے زائرین کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ اپنے پیکجز کا انتخاب اور مالیاتی رقوم کی منتقلی صرف اور صرف آفیشل حج پورٹل یا پاک حج موبائل ایپ کے ذریعے ہی سرانجام دیں۔
وزارت کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی زائر نے کسی کمپنی، ایجنٹ یا فرد کو براہِ راست مینوئل طریقے سے نقد رقم یا چیک کی شکل میں ادائیگیاں کیں تو کسی بھی قسم کے مالیاتی نقصان یا ویزا بلاکیج کی صورت میں وزارتِ مذہبی امور کی کوئی انتظامی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ تمام رقوم ڈیجیٹل اسکیننگ اور بینکنگ چینلز کے محفوظ سافٹ ویئر کے ذریعے ہی ٹریک کی جائیں گی۔
کل کوٹہ اور ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد سیٹیں ضبط کرنے کے سخت رولز
سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے سال 2027 کے لیے پاکستان کو مجموعی طور پر 179,210 نشستوں کا حج کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔ اس مجموعی کوٹے میں سے حکومتِ پاکستان کی ریگولر اسکیم کے لیے 107,526 نشستیں مخصوص ہیں جبکہ پرائیویٹ حج اسکیم کے لیے 71,684 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
وزارت نے تمام ٹور آپریٹرز اور عازمین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر 20 نومبر 2026 کی مقررہ تاریخ تک الاٹ کردہ کوٹہ مکمل طور پر استعمال نہ ہوا یا زائرین نے اپنے پیکجز لاک نہ کیے، تو وزارتِ مذہبی امور کونسل رولز کے تحت اس غیر استعمال شدہ کوٹے کو فوری طور پر ضبط کرنے کا پورا قانونی حق رکھتی ہے۔ یہ بچ جانے والی سیٹیں بعد میں دوسرے فعال پرائیویٹ مینیجرز یا سرکاری حج اسکیم کو منتقل کر دی جائیں گی تاکہ پاکستان کا عالمی کوٹہ ضائع نہ ہو۔






