پنجاب بھر کے طلبہ کو محفوظ، سستا اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ فراہم کرنے اور ان کی سفری مشکلات کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے حکومتِ پنجاب کی جانب سے ایک بہت بڑا اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چیف منسٹر یوتھ انیشیٹو کے تحت باقاعدہ طور پر سی ایم پنجاب ای بائیک اسکیم 2026 کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کرتے ہوئے آن لائن درخواستوں کی وصولی کا آغاز کر دیا ہے۔
اس نئے اور اپگریڈڈ فیز کے تحت صوبے بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ریکارڈ 100,000 (ایک لاکھ) الیکٹرک اسکوٹیز اور بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ مینوئل دفتری دباؤ اور بینکنگ بوجھ کو ختم کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ نے طلبہ کے مفاد میں تاریخی تبدیلیاں کرتے ہوئے اس بار ڈاؤن پیمنٹ کی شرط کو مکمل طور پر ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب طلبہ بغیر کوئی ابتدائی رقم جمع کرائے محض آسان ماہانہ اقساط پر اپنی بائیک حاصل کر سکتے ہیں۔
ڈاؤن پیمنٹ کا خاتمہ اور 3,000 روپے ماہانہ قسط کا اسٹرکچرل فریم ورک
وزارتِ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا شیٹ کے مطابق، اس اسکیم کے فائنینشل ماڈل کو طلبہ کے لیے انتہائی آسان اور سستا بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بینکوں کی جانب سے تجویز کردہ تمام اضافی چارجز اور مینوئل کسٹمز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت طے پانے والے سائنسی اور مالیاتی پیرامیٹرز درج ذیل ہیں:
زیرو ڈاؤن پیمنٹ: طلبہ کو موٹر سائیکل وصول کرتے وقت کوئی یکمشت رقم یا ایڈوانس ادا نہیں کرنا ہوگا۔
سستی ماہانہ قسط: طلبہ کے لیے تاحیات آسان اور بلا سود اقساط کا مینوئل وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت قسط کی رقم تقریباً 3,000 روپے ماہانہ فکس کی گئی ہے۔
حکومتی سبسیڈی اور زیرو انٹرسٹ: پنجاب حکومت فی بائیک 90,000 روپے کی کیپیٹل سبسیڈی فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ قرضے پر آنے والے تمام سود اور انشورنس کے اخراجات پنجاب حکومت خود برداشت کرے گی۔
مفت حفاظتی سامان: ہر منتخب طالب علم کو بائیک کے ساتھ حکومت کی طرف سے ہیلمیٹ اور سیفٹی راڈز بالکل مفت فراہم کیے جائیں گے۔
لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری اور طالبات کے لیے پنک بائیکس
اسکیم میں شامل الیکٹرک بائیکس کو جدید ترین اور محفوظ ترین سائنسی ٹیکنالوجی کے تحت مینوفیکچر کیا گیا ہے۔ ان بائیکس میں روایتی بیٹریوں کے بجائے طویل العمر لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LiFePO4) بیٹریاں نصب کی گئی ہیں جو بہترین مائلیج اور وارنٹی فراہم کرتی ہیں۔ یہ بائیکس 72V 30Ah بیٹری اور 1000W موٹر سے لیس ہیں، جن کی اوسط رفتار 50 سے 55 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
صنفی مساوات اور طالبات کو بااختیار بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جس کے تحت طالبات کو پنک (Pink) ای بائیکس الاٹ کی جائیں گی جبکہ طلبہ کو بلیک ای بائیکس دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ تمام کامیاب امیدواروں کو موٹر سائیکل ڈیلیوری سے قبل حکومت کی طرف سے دو روزہ لازمی ہینڈز آن بائیومیٹرک رائیڈنگ سیفٹی ٹریننگ بھی مفت فراہم کی جائے گی۔
اہلیت کا معیاراور آن لائن اپلائی کا طریقہ
درخواستوں کی پروسیسنگ کو مکمل طور پر پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ بنانے کے لیے مینوئل فارمز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ طلبہ صرف آفیشل پورٹل کے ذریعے ہی آن لائن رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔
اسکیم میں اپلائی کرنے کے لیے درج ذیل ریگولیٹری شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے:
تعلیمی حیثیت: امیدوار پنجاب کے کسی بھی سرکاری یا نجی کالج یا ایچ ای سی سے منظور شدہ یونیورسٹی کا باقاعدہ طالب علم ہو۔
عمر اور لائسنس: طالب علم کی عمر کم از کم 16 سال ہونی چاہیے اور اس کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس یا موٹر سائیکل کا لرنر پرمٹ ہونا لازمی ہے۔
گارنٹر کا موبائل نمبر: آن لائن فارم پر درج موبائل نمبر لازمی طور پر والدین یا قانونی سرپرست (Guarantor) کے نام پر رجسٹرڈ ہونا چاہیے، جن کا شناختی کارڈ درست ہو۔
امیدوار چوبیس گھنٹے کسی بھی وقت آفیشل پورٹل bikes.punjab.gov.pk پر لاگ ان کر کے اپنے دستاویزات اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 4 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی (e-balloting) کے بعد کامیاب طلبہ کو محض 6 ہفتوں کے اندر بائیکس کی ڈیلیوری شروع کر دی جائے گی۔ حکومت اس اسکیم کا دائرہ کار مستقبل میں سرکاری ملازمین اور ڈیلیوری رائڈرز تک بھی وسیع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔






