پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر صنفی مساوات، خواتین کو بااختیار بنانے اور عالمی امن کے عمل میں ان کی شمولیت کے حوالے سے اپنے غیر متزلزل اور اصولی عزم کا ایک بار پھر بھرپور اعادہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ثقافتِ امن کے پروگرام آف ایکشن کے اعلیٰ سطحی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جادون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں اور معنویت پر مبنی شرکت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ امن و سلامتی میں خواتین کا کردار بڑھانا اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ دنیا کو جنگوں اور تنازعات سے نکالنے کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ کا ہائی لیول فورم اور پاکستان کا تاریخی مؤقف
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 13 ستمبر 1999 کو اپنائے گئے تاریخی پروگرام آف ایکشن کی یاد میں منعقدہ اس فورم کے دوران، پاکستانی مندوب نے ایک انتہائی جامع اور مؤثر قومی بیانیہ پیش کیا۔ انہوں نے فورم کو یاد دلایا کہ خواتین نہ صرف امن قائم کرنے والی ایک بڑی قوت ہیں بلکہ وہ تنازعات اور جنگوں کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بھی ہیں۔ سفیر عثمان جادون نے اپنے خطاب میں ایک خوبصورت نعرہ دیتے ہوئے دنیا کو جھنجھوڑا: "آئیں خواتین کی قیادت پر سرمایہ کاری کریں، آئیں امن پر سرمایہ کاری کریں، اور آئیں اپنے روشن مستقبل پر سرمایہ کاری کریں”۔ پاکستان نے سالانہ فالو اپ قرارداد پیش کرنے پر بنگلہ دیش کے کردار کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
پائیدار امن کے لیے مستقل سرمایہ کاری اور تعلیم تک رسائی کا مطالبہ
پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارتی گائیڈ لائنز کے مطابق، کسی بھی ایسے معاشرے میں جو طویل عرصے سے تنازعات کا شکار رہا ہو وہاں خواتین کی قیادت ایک شفا بخش مرہم کا کام کرتی ہے۔ جب خواتین مذاکرات اور امن عمل کی قیادت کرتی ہیں تو وہ امن زیادہ پائیدار اور طویل مدتی ہوتا ہے، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں امن کے معاہدے عارضی ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے درج ذیل اہم مطالبات کیے:
تعلیم اور انصاف تک بلا تعطل رسائی: خواتین کے سیاسی عمل میں مکمل حصہ لینے کے لیے ان کے لیے تعلیم اور عدالتی نظام تک آسان رسائی کو یقینی بنانا لازم ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 پر عملدرآمد: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد 1325 کے تحت خواتین کے حقوق اور سلامتی کے تحفظ کو عالمی قوانین کے مطابق نافذ کیا جائے۔
پاکستانی خواتین کا اقوام متحدہ کے امن مشنز میں قابلِ فخر کردار
سفیر عثمان جادون نے عالمی فورم پر پاکستانی خواتین کی بہادری، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی خواتین سفارت کاروں، سیاسی رہنماؤں، اساتذہ اور بالخصوص نیوکلیر ہارڈ شیڈز کے تحت یو این پیس کیپرز پر فخر ہے۔ پاکستانی خواتین نے دنیا کے مشکل ترین خطوں میں بطور فوجی، پولیس آفیسرز اور طبی ماہرین خدمات انجام دے کر بین الاقوامی سطح پر داد وصول کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے آئینی ضوابط اور ثقافتی اقدار کی روشنی میں مستقبل میں بھی عالمی سطح پر امن و سلامتی میں خواتین کا کردار مزید وسیع اور موثر بنانے کے لیے اپنی مہم اور کوششیں جاری رکھے






