صوبہ پنجاب میں تعلیمی ایمرجنسی، اسکولوں کے بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی اور ہر بچے کو مفت و معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب اور محکمہ سکول ایجوکیشن (SED) نے باقاعدہ طور پر پنجاب اسکول فری تعلیم آپشنز کے نئے اسٹرکچرل فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت صوبے بھر کے غریب اور مڈل کلاس خاندانوں کے بچوں کو 4 مختلف متبادل آپشنز (ماڈلز) کے ذریعے بالکل مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔
اس تاریخی تعلیمی روڈ میپ کا بنیادی مقصد آرٹیکل 25-اے کے تحت ہر بچے کے آئینی حق کو یقینی بنانا، سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت تعلیمی معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ حکومت نے ان چاروں آپشنز کو شفاف ڈیجیٹل سافٹ ویئر اور کیو آر بیسڈ مانیٹرنگ سسٹم سے لنک کیا ہے تاکہ مینوئل دفتری تاخیر اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکے
پہلا اور دوسرا آپشن: دانش اسکول ماڈل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ
پنجاب حکومت نے پسماندہ اضلاع (جیسے چولستان، تھرپارکر سے متصل راجن پور، اور ڈیرہ غازی خان) کے ہونہار لیکن غریب طلبہ کے لیے اپنے فلیگ شپ پروگرام کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے:
دانش اسکول نیٹ ورک کی توسیع: اس ماڈل کے تحت پنجاب کے پسماندہ ترین علاقوں میں نئے دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں جہاں یتیم اور انتہائی غریب طلبہ کو نہ صرف عالمی معیار کی مفت تعلیم دی جائے گی بلکہ ان کے بورڈنگ، کھانے پینے، کسٹمز یونیفارم اور کتابوں کے تمام اخراجات حکومت خود برداشت کرے گی۔
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ماڈل: اس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ آپشن کے تحت ایسے سرکاری اسکول جہاں اساتذہ یا عمارتوں کی کمی ہے انہیں نجی شعبے (تعلیمی این جی اوز اور مینیجرز) کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ حکومت فی طالب علم کے حساب سے پی ای ایف (PEF) کے ذریعے نجی اسکولوں کو فیس ادا کرے گی اور طلبہ سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔
واؤچر اسکیم اور آؤٹ سورسنگ ماڈل
شہروں اور کچی آبادیوں میں رہنے والے آؤٹ آف اسکول بچوں کو دوبارہ تعلیم کی طرف لانے کے لیے باقی دو ماڈلز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:
ایجوکیشن واؤچر اسکیم : اس ماڈل کے تحت حکومت براہِ راست مستحق خاندانوں کو ڈیجیٹل تعلیمی واؤچرز جاری کرے گی۔ والدین ان واؤچرز کی مدد سے اپنے بچوں کو اپنے علاقے کے کسی بھی منظور شدہ نجی اسکول میں بالکل مفت داخل کرا سکیں گے، اور اسکول انتظامیہ وہ واؤچرز ریوینیو کسٹمز کے مطابق حکومت سے کیش کرائے گی۔
پبلک اسکولز آؤٹ سورسنگ : اس چوتھے ماڈل کے تحت پنجاب کے غیر فعال یا کم کارکردگی والے سرکاری اسکولوں کا انتظامی کنٹرول لائق اور تجربہ کار پرائیویٹ مینیجرز کو سونپا جا رہا ہے۔ اس ماڈل میں اسکول کی عمارت سرکاری رہے گی لیکن پڑھائی کا معیار اور اساتذہ کی حاضری نجی مینیجرز سنبھالیں گے جبکہ طلبہ کے لیے تعلیم، کتابیں اور امتحانی فیسیں مکمل طور پر فری رہیں گی۔
اسکول کونسلز کو فنڈز کی منتقلی اور ڈیجیٹل کوریڈور کا نفاذ
اس پورے پروگرام کو کامیابی سے چلانے کے لیے نادرا (NADRA) اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے تعاون سے ایک مرکزی ڈیجیٹل پورٹل تیار کیا گیا ہے۔ تمام اسکولوں کی کونسلوں کو فنڈز کی مینوئل منتقلی کے بجائے براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں کیش لیس منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ اسکول کی سطح پر ڈیسک، پینے کے صاف پانی اور سولر سسٹم کی تنصیب کو وقت پر مکمل کیا جا سکے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق ان 4 آپشنز کے نفاذ سے پنجاب میں آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی واقع ہوگی اور نوجوان نسل کو جدید ڈیجیٹل سکلز (جیسے اے آئی اور کوڈینگ) سیکھنے کے لیے اسکول کی سطح پر ہی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیبارٹریز کی سہولیٹ میسر آئے گی۔






