مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کو کم کرنے اور عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم ترین اور تزویراتی دورے پر تہران روانہ ہو چکے ہیں۔
عاصم منیر کا دورہ ایران 2026 ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین بالواسطہ جنگ اور سفارتی تعطل سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور سیکیورٹی کو فروغ دینے کی پاکستانی کوششوں کا ایک تسلسل قرار دیا ہے۔
اسلام آباد امن معاہدے کی بحالی کا مشن
پاکستان نے رواں سال جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان کامیاب ثالثی کے ذریعے ایک عبوری امن معاہدہ جسے اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کہا جاتا ہے طے کرایا تھا۔ تاہم مغربی ایشیا میں دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی اور دونوں ممالک کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد یہ امن عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس تازہ سفارتی مشن کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
اعتماد کے فقدان میں کمی: تہران اور واشنگٹن کے مابین پائے جانے والے گہرے عدم اعتماد کو دور کرنا اور دوبارہ رابطے بحال کرنا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ اور پابندیاں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اب تک کی سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کرنے کے حالیہ بیانات اور ان کے اثرات پر ایرانی قیادت کو اعتماد میں لینا۔
آبی گزرگاہوں کا تحفظ: آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو پرامن بنانا۔
دورہ تہران سے قبل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم گفتگو
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کے اس تزویراتی دورے پر روانہ ہونے سے چند روز قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر ایک اہم اور تفصیلی گفتگو بھی کی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گفتگو میں واشنگٹن کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے دی جانے والی نئی تجاویز اور سیکیورٹی پیرامیٹرز پر بات چیت کی گئی تاکہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی حلقوں اور صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
پاکستان اس وقت خطے میں ایک انتہائی غیر جانبدار اور معتبر ثالث کے طور پر ابھرا ہے جس کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے عوام اور عالمی برادری کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔
پاک-ترکیہ-سعودی عرب دفاعی معاہدہ اور حوثی حملوں کا معاملہ
امریکہ اور ایران کے تنازع کے علاوہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایجنڈے میں خطے کے نئے سیکیورٹی اور عسکری اتحاد بھی شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے مشرکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے کا سیکیورٹی ماحول تبدیل ہوا ہے۔
پاکستانی وفد شامی اور ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور پاکستان کے قریبی اتحادی سعودی عرب پر ہونے والے میزائل حملوں کا معاملہ بھی ایرانی عسکری قیادت کے سامنے اٹھائے گا۔ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ خطے کی معاشی خوشحالی کے لیے برادر ممالک کی خودمختاری اور سمندری حدود کا تحفظ ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔






