مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے عاصم منیر کا دورہ تہران 2026 پاکستان کی اعلیٰ سیکیورٹی اور انتظامی قیادت کے اہم سفارتی مشن کا حصہ ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایران کے نومنتخب وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔
آج، 24 اگست 2026 کو تہران میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان کی ان مخلصانہ اور مونو فیکچرڈ سفارتی کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم امہ کے درمیان اتحاد کو فروغ دینا اور خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) اور ایرانی میڈیا کے مطابق، اس سیشن کا بنیادی محور مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا ایک جامع، پائیدار اور پرامن حل تلاش کرنا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ بحران کا پرامن حل اور پاکستان کا اصولی موقف
ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حوالے سے پاکستان کے واضح اور نپے تلے موقف کو دہرایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی بالخصوص غزہ، شام اور لبنان کے تنازعات کا واحد حل مذاکرات، کثیر الجہتی سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ہے۔
پاکستانی وفد نے ایرانی قیادت کے سامنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی نئی جنگ یا محاذ آرائی کا حامی نہیں ہے بلکہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ مشن بنیادی طور پر امریکہ اور ایران کے مابین بیک چینل امن مذاکرات کو دوبارہ فعال کرنے کی کڑی ہے۔
پاک-ایران بارڈر سیکیورٹی اور انسدادِ اسمگلنگ پر تفصیلی گفتگو
وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ان کے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی کے مابین ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے داخلی امور اور بارڈر مینجمنٹ کے سٹرکچرل مینوئل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے داخلہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ دونوں ممالک کا مشترکہ دشمن ہیں۔
سیکیورٹی کوریڈور کو مضبوط بنانے کے لیے درج ذیل تزویراتی نکات پر اتفاق کیا گیا:
انٹیلی جنس شیئرنگ کا سوفٹ وئیر: سرحد پار دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے دونوں ممالک کیو آر کوڈ اور جیو ٹیگنگ پر مبنی ڈیجیٹل ڈیٹا شیئر کریں گے۔
انسدادِ انسانی اسمگلنگ : غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے کسٹمز نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دونوں ممالک کی بارڈر فورسز مشترکہ پیٹرولنگ کریں گی۔
مشترکہ سیکیورٹی مینوئل کا نفاذ: سرحدی مارکیٹوں کے تحفظ اور قانونی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مینوئل کلیئرنس کو تیز کیا جائے گا۔
Chief of Army Staff and Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir along with Interior Minister @MohsinnaqviC42 met with Iranian Minister of Interior Eskandar Momeni in Tehran@OfficialDGISPR @PakinIran #PakistanForPeace #RadioPakistan #newshttps://t.co/IOLn0kS8Zr pic.twitter.com/OWvhy33iLE
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 24, 2026
علاقائی امن کی بحالی میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار کی تعریف
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے علاقائی امن، سلامتی اور مسلم ممالک کے مابین تنازعات کو کم کرنے کے لیے پاک فوج کے وژن، مائینڈ سیٹ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی مخلصانہ کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ روابط کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تہران اور اسلام آباد کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے وفود نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے جوائنٹ ٹاسک فورسز کا باقاعدہ اجلاس بلائیں گے۔






