پاکستان کے معاشی استحکام، وفاقی اکائیوں کے مابین ہم آہنگی اور صوبہ سندھ کے بنیادی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ نے سرجوش تعاون کا عزم دہرایا ہے۔ آج، 24 اگست 2026 کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی جس میں ملکی تعمیر و ترقی خصوصاً سندھ بھر میں جاری مختلف ترقیاتی پیکجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران صوبہ سندھ کے انتظامی و مالیاتی امور، سیلاب کے بعد بحالی کے ادھورے منصوبوں اور کراچی سمیت دیگر اضلاع کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لیے جاری وفاقی و صوبائی فنڈڈ اسکیموں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ملکی ترقی کا راستہ صوبوں کی خوشحالی سے ہو کر گزرتا ہے اور اس مقصد کے لیے وفاق اور صوبے کا مل کر چلنا ناگزیر ہے۔
PM @CMShehbaz , Sindh CM Murad Ali Shah discuss matters pertaining to province and ongoing development projects@PakPMO @SindhCMHouse #RadioPakistan #News https://t.co/iNRBGHdGEf pic.twitter.com/9TmNaw9Zcx
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 24, 2026
وفاقی اور صوبائی تعاون کے تحت جاری بنیادی انفراسٹرکچر پروجیکٹس کا جائزہ
ملاقات کا ایک بڑا اور بنیادی حصہ سندھ میں ترقیاتی منصوبے کی بروقت اور شفاف تکمیل پر مرکوز رہا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو صوبے میں جاری میگا پراجیکٹس کی مینوفیکچرنگ اور سائنسی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی جن میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:
کراچی ٹرانسپورٹ اور گرین لائن انفراسٹرکچر: وفاقی دارالحکومت کی طرح کراچی کے شہریوں کو سستی اور جدید سفری سہولیات دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سسٹمز کی اپ گریڈیشن۔
آبی وسائل اور کینجھر جھیل پروجیکٹ: کراچی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبوں (جیسے K-IV پراجیکٹ) کے لیے وفاقی فنڈز کے بروقت اجراء اور کسٹمز کلیئرنس کے امور۔
توانائی اور تھر کول کوریڈور: تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو قومی گرڈ سے لنک کرنے اور مقامی آبادی کو روزگار دینے کے اسٹرکچرل روڈ میپ پر گفتگو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تعمیراتی کاموں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزارتوں کو ہدایت کی کہ مینوئل دفتری تاخیر اور ریڈ ٹیپ کا خاتمہ کر کے سندھ کے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کو بلا تعطل برقرار رکھا جائے۔
ملکی سیاسی صورتحال، باہمی مشاورت اور سیاسی رواداری کا فروغ
انتظامی اور ترقیاتی امور کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے، جیو اکنامک چیلنجز اور وفاق صوبائی تعلقات پر کھل کر تبادلۂ خیال کیا۔ اجلاس میں اس بات پر گہرا اتفاق پایا گیا کہ ملکی معیشت کی پائیدار بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری (جیسے سعودی عرب اور گوگل کے حالیہ معاہدے) کو کامیاب بنانے کے لیے ملک کے اندر سیاسی استحکام پہلی شرط ہے۔
ملاقات کے دوران طے پانے والے بنیادی سیاسی پیرامیٹرز درج ذیل ہیں:
سیاسی رواداری: ملک کے سیاسی ماحول کو پرامن رکھنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مابین رواداری اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے گا۔
مستقل مشاورت کا مینوئل: وفاق اور صوبہ سندھ کے مابین تمام تزویراتی، آئینی اور مالیاتی فیصلوں (جیسے این ایف سی ایوارڈ اور ٹیکس نیٹ کی توسیع) پر مستقل باہمی مشاورت کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔
مشترکہ سیکیورٹی اسٹریٹجی: کسٹمز، اسمگلنگ کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے صوبائی سیکیورٹی اداروں اور وفاقی اداروں کے مابین سوفٹ وئیر اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
پبلک انٹرسٹ اور معاشی ترقی کو اول ترجیح دینے کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے وژن کے مطابق تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود سندھ کے پسماندہ اضلاع کی ترقی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور بہت جلد کراچی کا دورہ کر کے ان منصوبوں کی زمینی پیشرفت کا خود معائنہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے وفاقی تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔






