پاکستان کی نوجوان آبادی کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ بنانا اور انہیں جدید عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق معاشی دھارے میں شامل کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی پیشرفت جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی باقاعدہ اور جامع قومی یوتھ پالیسی کے نفاذ کو تیز کرنے کے لیے حتمی سٹریٹجک ہدایات جاری کر دی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئی نیشنل یوتھ پالیسی کے تحت روزگار کے لاکھوں نئے اور باوقار مواقع پیدا کرنا اب ایک باقاعدہ ریاستی مشن ہے۔
اس تاریخی پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے وزیراعظم نے ایک سخت مانیٹرنگ نظام بھی قائم کیا ہے، جس کے تحت ہر ماہ باقاعدگی سے ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بیوروکریٹک تاخیر کا خاتمہ کرنا اور تمام وفاقی وزارتوں کے مابین باہمی تعاون کو سوفٹ وئیر اور ڈیجیٹل کوریڈورز کے ذریعے مربوط بنانا ہے۔
خواتین اور پسماندہ صوبوں کے نوجوانوں کے لیے خصوصی ترجیحی اقدامات
نئی نیشنل یوتھ پالیسی کے روڈ میپ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں صنفی اور علاقائی تفریق کو ختم کرنے کے لیے دور رس تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ مینیجرز کو حکم دیا ہے کہ وہ ملکی افرادی قوت میں توازن پیدا کرنے کے لیے درج ذیل شعبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کریں:
خواتین کی معاشی شمولیت: ملک کی نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو جدید ترین مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل سرٹیفیکیشنز فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ گھر بیٹھے یا بین الاقوامی کارپوریٹ سیکٹر میں اعلیٰ آمدنی والی ملازمتیں حاصل کر سکیں۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لیے کوٹہ: بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ اضلاع کے نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر میرٹ بیسڈ ملازمتیں اور آسان کاروباری قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
نافٹیک (NAVTTC) اور سمیڈا (SMEDA) میں دور رس ادارہ جاتی اصلاحات
ملکی افرادی قوت کو بین الاقوامی صنعتی مانگ کے مطابق ڈھالنے کے لیے حکومت نے نیشنل وہیکل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور سمیڈا (SMEDA) کے سٹرکچرل مینوئل میں انقلابی ترامیم کی ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نافٹیک (NAVTTC) اب روایتی کورسز کے بجائے نوجوانوں کو ایسی ٹریننگ فراہم کر رہا ہے جس کے بعد انہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشنز حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک جہاں پاکستانی لیبر مارکیٹ کی شدید ڈیمانڈ ہے وہاں کی زبانوں پر عبور حاصل کرانے کے لیے خصوصی لینگویج لیبز قائم کی گئی ہیں تاکہ پاکستانی نوجوان خلیجی ممالک اور یورپ میں ہائی اینڈ پروفیشنل نوکریاں حاصل کر سکیں۔
ڈیجیٹل یوتھ ہب اور تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ کا آغاز
نوجوانوں کو ملازمتوں کی معلومات تک فوری اور مینوئل دفتری تاخیر کے بغیر رسائی دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جا رہا ہے:
ڈیجیٹل یوتھ ہب : یہ ایک مرکزی آن لائن سائنسی پورٹل ہے جہاں ملک بھر کا کوئی بھی نوجوان لاگ ان کر کے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر دستیاب نوکریوں، انٹرنشپس اور اسکلز ڈویلپمنٹ کے مواقع کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا ایک ہی جگہ دیکھ سکتا ہے۔
یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز : پاکستان کے تمام بڑے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی مشاورتی سیلز قائم کیے جا رہے ہیں جو طلباء کی کیریئر کونسلنگ کریں گے اور انہیں مارکیٹ کی نئی ضروریات (جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بلاک چین) سے آگاہ کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے چیئرمین، رانا مشہود نے اب تک کے اقدامات پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس تاریخی اسکیم کے فوائد کو عام نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے ملک گیر سطح پر ایک بھرپور آگاہی مہم کا فوراً آغاز کیا جائے۔






