امریکہ میں مقیم یا وہاں جانے کے خواہش مند بین الاقوامی طلبہ، ہنر مند کارکنوں اور مختلف غیر ملکی ویزا ہولڈرز کے لیے یو ایس سی آئی ایس کی جانب سے ایک بہت بڑی اور اہم ترین خبر سامنے آئی ہے۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے اپنے متعدد بنیادی اور اہم ترین فارمز کی ساخت، فیس کے طریقہ کار اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے مروجہ ضوابط کو تبدیل کر دیا ہے۔
ان امریکی امیگریشن فارمز میں تبدیلیاں بنیادی طور پر ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے، دھوکہ دہی کے سدِباب اور درخواستوں کی پراسیسنگ کو تیز بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔ کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تعاون سے نافذ ہونے والے ان نئے رولز کے بعد اب پرانے فارمز مکمل طور پر مسترد کر دیے جائیں گے اور شہریوں کو صرف اور صرف اپڈیٹڈ ایڈیشنز ہی جمع کرانے ہوں گے۔
فارم I-20 اور فارم I-539 کے نئے ایڈیشنز اور ڈیڈ لائنز
امریکی امیگریشن حکام نے ایف ون (F-1) اور ایم ون (M-1) ویزا پر آنے والے طلبہ کے لیے کڑی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس نئے مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت درج ذیل فارمز کو اپڈیٹ کیا گیا ہے:
فارم I-20 (طلبہ کے لیے اہلیت کا سرٹیفکیٹ): اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزٹر پروگرام (SEVP) کے تحت اب اس فارم میں ایک خاص کیو آر کوڈ اور ڈیجیٹل بار کوڈ شامل کیا گیا ہے جسے بارڈر پر موجود کسٹمز افسران اپنے اسمارٹ فونز یا سافٹ ویئر کے ذریعے فوری اسکین کر کے طالب علم کے اسٹیٹس کی تصدیق کر سکیں گے۔
فارم I-539 (نان امیگرینٹ اسٹیٹس میں تبدیلی یا توسیع): اگر کوئی ویزا ہولڈر اپنے قیام کی مدت بڑھانا چاہتا ہے یا وزٹ ویزا سے اسٹوڈنٹ ویزا میں منتقل ہونا چاہتا ہے تو اسے اب فارم I-539 کا جدید ترین ایڈیشن استعمال کرنا ہوگا جس میں بائیومیٹرک فیس اور فیملی ممبرز کا ڈیٹا شامل کرنے کا طریقہ کار بدل دیا گیا ہے۔
فارم I-765 (ورک پرمٹ / OPT) میں کی گئی سیکیورٹی ترامیم
امریکہ میں زیرِ تعلیم طلبہ جو اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ (OPT) یا اسٹیم (STEM) او پی ٹی کے تحت کام کرنے کے مجاز ہوتے ہیں ان کے لیے فارم I-765 (درخواست برائے روزگار کی اجازت) سب سے اہم دستاویز ہے۔
یو ایس سی آئی ایس نے اس فارم کے اندر ڈیٹا انٹری کی غلطیوں کو کم کرنے اور سوشل سیکیورٹی نمبر (SSN) کے خودکار اجراء کے لیے نظام کو اپگریڈ کیا ہے۔ اب نئے فارم کے ذریعے بینکوں، اسپتالوں اور آجروں کو کسٹمر کا ڈیٹا حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ یاد رہے کہ اگر کسی درخواست گزار نے پرانا فارم جمع کرایا تو نادرہ کی طرح سخت امریکی نظام اس درخواست کو بغیر کسی نوٹس کے فوری مسترد کر دے گا اور فیس بھی واپس نہیں ہوگی۔
کیش لیس فیس اور آن لائن وریفائی کرنے کا طریقہ کار
یو ایس سی آئی ایس نے فیسوں کی ادائیگی کے نظام کو بھی مکمل طور پر کیش لیس اور ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ اب درخواست گزار اپنے کمپیوٹرائزڈ کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز یا مجاز آن لائن والٹس کے ذریعے ویزا پورٹل پر فیس ادا کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ تمام اپڈیٹڈ فارمز کے نیچے اب ایک مخصوص کیو آر کوڈ کا فیچر لازمی قرار دیا گیا ہے جس کی مدد سے امیگریشن افسران درخواست گزار کا نام، پتہ اور تصویر اپنے سسٹم پر فوری دیکھ سکتے ہیں۔ اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ اوورسیز عازمین اور بین الاقوامی طلبہ کو ہوگا کیونکہ اب ان کا ڈیٹا کسٹمز اسٹیشنز پر دستی ٹائپنگ کے بجائے خودکار اسکیننگ کے ذریعے پراسیس کیا جائے گا۔
تمام اسٹوڈنٹس اور امیگرینٹس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی فارم کو ڈاؤن لوڈ یا پُر کرنے سے پہلے یو ایس سی آئی ایس کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اس فارم کی آخری تاریخِ قبولیت لازمی چیک کر لیں تاکہ کسی بھی قسم کے مالیاتی یا سفری نقصان سے بچا جا سکے۔






